1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کا صحت سے متعلق اصلاحاتی بل ایوان سے منظور

امریکی صدر کا تجویز کردہ صحت عامہ سے متعلق اصلاحاتی بل اب سینیٹ کے بعد ایوان نمائندگان سے منظوری حاصل کر گیا ہے۔ امریکی صدر اِس بل کو اپنی حکومتی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔

default

امریکی صدر اوباما اور اُن کی سیاسی جماعت کو امریکی ایوان نمائندگان میں ہیلتھ کیئر بل کی منظوری سے راحت ملی ہے۔امریکی ایوان نمائندگان نے صدر اوباما کے صحت عامہ سے متعلق مجوزہ بل کو منظور کر لیا ہے۔ بل کی حمایت میں 219 ووٹ ڈالے گئے۔ مخالفت میں 212 ووٹ پڑے۔ 34 ڈیمو کریٹس اراکین نے بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

بل کی کامیابی اسی وقت سامنے آ گئی تھی جب ایوان نے بحث کی منظوری کے قوانین کو منظور کیا تھا۔ یہ ہیلتھ بل گزشتہ نو مہینوں سے تنقید اور کئی دوسرے معاملات کے باعث مسائل کا شکار تھا۔ اتوار کے دن اِس اصلاحاتی بل کو آخر کار حتمی منظوری حاصل مل گئی۔ امریکی سینیٹ اِس بل کو پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ صحت سے متعلق امریکی صدر کے اصلاحاتی بل سے حکومت کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔

امریکی صدر کو یقین ہے کہ بل کے مندرجات پر عمل درآمد سے امریکی باشندوں کے صحت عامہ سے متعلق کافی مسائل حل ہو جائیں گے۔ امریکی حکومت اِس بل کی مد میں اگلے دس سالوں میں نوسو چالیس ارب ڈالر سے زائد خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اوباما کو یقین ہے کہ وہ لاکھوں افراد جو ہیلتھ انشورنس کے زمرے میں نہیں تھے اُن کو بھی اِس کا فائدہ پہنچے گا۔ اِس طرح پچانوے فی صد امریکی ہیلتھ انشورنس کی سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کے سینئر رکن جان بوہینر نے ہیلتھ کیئر بل پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اِس کی منظوری امریکہ کو برباد کر دینے کے برابر ہو گی۔ ایسے ہی خیالات کا اظہار ایک اور ریپبلکن رکن لوئی گوہمیرٹ نے کیا۔

Prostete gegen Gesundheitsreform

ہیلتھ کیئر بل کے خلاف مظاہرین

گزشتہ روز واشنگٹن میں اِس بل کی مخالفت میں ایک اور مظاہرے کا انتظام کیا گیا تھا جس میں بڑے بڑے بینر پر لکھا تھا ’کِل دی بل‘ اِس مظاہرے میں اُن اراکین کو کرپٹ قرار دیا گیا جو بل کے حامی ہیں۔ مظاہرے سے خطاب کرنے والے افراد نے ہیلتھ کیئر بل کے حامی اراکین پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے انتہائی سخت الفاظ کا استعمال کیا۔ ری پبلکن پارٹی کا یہ بھی خیال ہے کہ بل کی مخالفت ہی ایوان نمائندگان کے لئے وسطی مدت کے الیکشن میں ان کی کامیابی کا ضامن ہوگا۔

گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں امریکی دارالحکومت میں کانگریس کے ایوان نمائندگان کے اراکین اور سینیٹرز کے درمیان مسلسل رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ملاقاتوں کے سلسلے میں امریکی وزارت صحت اور امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس بھی ایک اہم مرکز بنا ہوا تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ووٹنگ کے رجحان کے بارے میں گزشتہ روز سے ڈیمو کریٹس نے کامیابی کے دعوے کرنے شروع کردیئے تھے۔ اُن کے بقول مطلوبہ ووٹ حاصل ہو چکے ہیں اب منظوری کی رسمی کارروائی باقی بچی ہے۔ بل کے حوالے سے گزشتہ رات امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس میں بھی سرگرمیاں جاری رہیں اور مانع حمل کے حوالے سے چند ڈیموکریٹس اراکین کے خدشات کے حوالے سے بھی مفاہمت طے پا گئی تھی۔ اِس ڈیل سے ایوان میں مانع حمل کے مخالف لیڈر بارٹ سٹوپاک اور اُن کے چھ حامیوں کی حمایت بھی بل کی منظوری کے لئے حاصل کر لی گئی تھی۔

بل منظور ہو چکا ہے اور اگلے چند دنوں میں اوباما کے دستخطوں سے یہ قانون کی حثیت اختیار کر لے گا۔ ایوان نمائنگان سے منظور ہونے والے بل میں جو ترامیم کی گئی ہیں اُن کی سینیٹ سے سادہ اکثریت سے منظوری بھی لازمی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM