1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کا آخری بجٹ، کانگریس مسترد کر سکتی ہے

امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کا آخری بجٹ پیش کر دیا ہے۔ اوباما کا بطور امریکی صدر یہ آخری سال ہے جبکہ نئے صدر کے انتخاب کی مہم اپنے زوروں پر ہے۔

صدر اوباما نے اپنے دورِ صدارت کا آخری بجٹ پیش کر دیا ہے۔ سن 2017 کے لیے یہ بجٹ کئی ٹریلین ڈالر پر مشتمل ہے اور اِس میں سائبر سکیورٹی سے لے کر کینسر ریسرچ تک، ہر مد میں بھاری رقوم مختص کی گئی ہیں۔ بجٹ کی مخالفت میں ری پبلکن پارٹی کے اراکین کانگریس پوری طرح تیار ہو چکے ہیں۔ کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ بجٹ رواں برس کی صدارتی انتخابی مہم پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے اور ایسا بھی خیال کیا گیا ہے کہ کانگریس اِس بجٹ کو ایوان میں پیش ہونے پر مسترد کر سکتی ہے۔ کانگریس کو کنٹرول کرنے والی ری پبلکن پارٹی نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ وہ اپنا مجوزہ بجٹ پیش کر سکتی ہے۔

کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں بجٹ کمیٹی کے ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سربراہ ٹام پرائس کا کہنا ہے کہ سابقہ بجٹوں جیسے نئے بجٹ پر بھی بحث میں وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ ناکام پالیسیوں کا تسلسل ہو سکتا ہے۔ اوباما نے اگلے برس کے لیے بجٹ اُسی دن پیش کیا ہے، جب امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹیوں کی نامزدگی کے حصول کی دوڑ کے لیے پارٹی الیکشن ہوں گے۔

ایسا بھی خیال کیا گیا ہے کہ نئے بجٹ سے امریکی صدر نے اپنی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ ملکی ترجیحات کو بھی حتمی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے نئے بجٹ کے حوالے سے کہا کہ اِس نئے بجٹ میں اقتصادی سرگرمیوں کے مثبت پھیلاؤ کو خاص طور پر مدِ نظر رکھا گیا ہے تا کہ ہر شہری تک نئے بجٹ کے ثمرات پہنچ سکیں۔

US Wahlen Parteikonferenz in Iowa Caucus Hillary Clinton

امریکی صدارتی الیکشن کے لیے پارٹی الیکشن کا سلسلہ جاری ہے

اِس نئے بجٹ میں گیس اور پٹرول پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور یہ فی بیرل دس ڈالر تجویز کیا گیا ہے۔ اس ٹیکس کو عائد کرنے کی وجہ زمین سے حاصل ہونے والے ایندھن یا فوسل فیولز سے نجات کی جانب ایک کوشش قرار دی گئی ہے۔ نئے بجٹ میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے انسداد کے لیے ساڑھے سات بلین ڈالر تجویز کیے گئے ہیں اور اِسی مد میں رکھی گئی یہ رقم گزشتہ برس کے مقابلے میں دو گنا ہے۔ نئے بجٹ میں اوباما انتظامیہ نے سائبر سکیورٹی کے لیے انیس بلین ڈالر مختص کیے ہیں۔

بجٹ کی مخالفت میں تیاری رپبلکن پارٹی کے رویے کو دیکھتے ہوئے ایوانِ نمائندگان میں اقلیتی لیڈر نینسی پیلوسی نے واضح کیا ہے کہ ری پبلکن اراکین ایسی کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں جو امریکا کے محنتی عوام اور ملک کے مستقبل کے لیے ہو۔ پیلوسی کے مطابق اوباما انتظامیہ کا اگلے سال کا بجٹ مستقبل کے لیے سرمایہ کاری ہے اور یہ فائدے مند ہے۔