1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما، پاک افغان اجلاس کی میزبانی کریں گے

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما بدھ کے روز ایک اجلاس کی میزبانی کریں گے جس میں پاکستان اور افغانستان کے نمائندے شرکت کریں گے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما کی نئی افغان پالیسی میں پاکستان کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے

Abdullah Gul mit Asif Ali Zardari und Hamid Karzai

پاکستانی صدر آصف زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی۔۔۔ پاکستان اور افغانستان کےدرمیان بد اعتمادی کی فضا پائی جاتی ہے


یہ اجلاس پاکستان اور افغانستان کے بارے میں نئے امریکی صدر باراک اوباما کی پالیسی کے حوالے سے خاصا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ امریکہ میں ہونے والے اس اجلاس میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی شرکت کریں گے۔

Taliban, Archivbild

افغانستان، امریکہ اور نیٹو طالبان عسکریت پسندوں کا گڑھ پاکستانی قبائلی علاقوں کو قرار دیتے ہیں

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس کے مطابق امریکی صدر دونوں ملکوں کے صدور سے افغانستان اور پاکستان کے مسئلے پر بات کریں گے اور اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کس طرح ایک دوسرے سے تعاون کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ باراک اوباما کی نئی افغان پالیسی میں پاکستان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور متعدد ا مریکی عہدیدار افغانستان سے ملحق پاکستان کے قبائلی علاقوں کو دنیا کے خطرناک ترین علاقے قرار دے چکے ہیں۔ امریکی صدر اوباما مزید اکیس ہزار افواج افغانستان بھیجنے کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔

Großbritannien Pakistan Oppositionsführer Nawaz Sharif darf aus dem Exil zurückkehren

امریکی انتظامیہ پاکستان کے مقبول رہنما اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے ساتھ روابط میں اضافہ کر رہی ہے، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

علاوہ ازیں امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق باراک اوباما کی انتظامیہ سابق پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف سے رابطوں میں اضافہ کر رہی ہے۔

بدھ کے روز امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ پاکستانی فوج اپنے روایتی حریف بھارت پر مستقل توجّہ مرکوز رکھنے کے بجائے اب شمال مغربی علاقوں میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی اہمیت کو سمجھ کر ان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔