1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما نے گوآنتانامو جیل بند کرنے کا حکم دے دیا

امریکی صدر باراک اوباما اپنی پیشرو بش انتظامیہ کی پالیسیوں کو بدل رہے ہیں۔ انہوں نے جمعرات کو گوآنتانامو بے کی جیل کو بند کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔

default

اوباما نے عہدہ سنبھالتے ہی تیز رفتاری سے بش دور کی پالیسیوں میں تبدیلی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے

اوباما کے ان احکامات کے تحت گوآنتانامو کا امریکی حراستی کیمپ ایک سال کے اندر اندر بند کر دیا جائے گا۔ یوں نئے امریکی صدر نے اپنا دیرینہ انتخابی وعدہ پورا کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بدھ کو جاری کردہ ایک مسودے میں کہا گیا تھا کہ اس کیمپ میں فوجی عدالتوں کے تحت مقدمات کی سماعت روک دی جائے گی۔ مزید یہ کہ گوآنتانامو کا حراستی کیمپ بند ہونے پر وہاں قید افراد کو ان کے آبائی وطن بھیجنے یا رہا کرنے کے ساتھ ساتھ کسی تیسرے ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

فوجی عدالت کے ججوں نے بدھ کو باراک اوباما اور اُن کے سیکریٹری دفاع کی وہ درخواست بھی منظور کر لی تھی جس میں گوآنتانامو کیمپ میں زیرالتوا مقدمات کو چار ماہ کے لئے روکنے کے لئے کہا گیا تھا۔ کیوبا میں قائم گوآنتانامو جیل میں تقریبا245 افراد کو دہشت پسندانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس کیمپ میں قیدیوں پر جسمانی تشدد کے باعث امریکہ کو دُنیا بھر میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

Symbolbild Obama Guantanamo USA

اوباما صدارتی مہم کے دوران بھی اس جیل کی بندش کے حوالے سے بیانات دیتے رہے ہیں

اوباما انتظامیہ کی جانب سے تفتیش کے ظالمانہ طریقہ کار پر پابندی لگانے اور دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث مشتبہ افراد کی حراست کا جائزہ لینے کے لئے بھی احکامات جاری کئے گئے ہیں۔

نئے امریکی صدر عراق سے امریکی فوج کے انخلا پر بھی کام کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ عسکری قیادت کو عراق سے فوجیوں کی جلد واپسی کے لئے اضافی منصوبہ بندی کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران اوباما نے 16 ماہ کے اندر اندر عراق سے فوجیوں کے انخلاء کا وعدہ کیا تھا۔ یوں سن دو ہزار دَس کے اندر اندر عراق سے تمام ایک لاکھ 42 ہزار امریکی فوجی واپس بلائے جا سکتے ہیں۔ اب تک کے امریکی عراقی معاہدے کے تحت سن دو ہزار گیارہ تک امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا ذکر کیا گیا ہے۔ اوبامہ افغانستان میں بھی مزید ہزاروں فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں آج کل متعینہ امریکی فوجیوں کی تعداد 33 ہزار ہے۔

دریں اثنا باراک اوباما نے حکومتی اخلاقیات پر بھی احکامات جاری کئے ہیں جن کے تحت وفاقی حکومت کے ملازمین کو نئے قوانین پر دستخط کرنا ہوں گے۔ باراک اوباما کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کو اپنی ذمے داریاں یاد رکھنی چاہئیں: "قانون سے وفاداری اور کھلا پن اس دور صدارت کے بنیادی ستون ہوں گے۔"

اُدھر بدھ کے روز امریکی ایوان نمائندگان کے پینل نے حکومتی اخراجات کے لئے 358 بلین ڈالر کے منصوبے کی بھی حمایت کی ۔

ملتے جلتے مندرجات