1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما عباس ملاقات، توقعات اور خدشات

اسرائیل کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی اور امدادی سامان لے جانے والے قافلوں پر حملوں کے تناظر میں فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس آج امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ وائٹ ہاوس میں ملاقات کر رہے ہیں۔

default

اسرائیل کی جانب سے غزہ متاثرین کے لئے امدادی سامان لے جانے والے قافلوں پر حملوں کے باعث عالمی برادری کی طرف سے اسرائیل پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔31 مئی کو اسرائیلی کمانڈوز کے ایک حملے میں نو امدادی کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، یورپی یونین اور اسلامی ممالک کی جانب سے ان واقعات کی بین الاقوامی تحقیقات کے مطالبات کے باوجود ابھی تک اسرائیلی قیادت کی طرف سے مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ان حالات میں فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے دورہء امریکہ اور صدر باراک اوباما سے ملاقات کو بہت اہم قرار دیا جارہا ہے۔

Israelische Flotte will Gaza-Hilfe stoppen Dossierbild 3

31 مئی کو امدادی سامان لے جانے والے بحری قافلے پراسرائیلی کمانڈوز کے حملے میں نو امدادی کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔

ایک امریکی عہدے دار کے مطابق باراک اوباما اس ملاقات کے دوران غزہ میں محصور فلسطینیوں کے حالات زندگی بہتر کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے، جن میں امریکہ کی طرف سے علاقے کی معاشی ترقی کے لئے امداد کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس امریکی عہدے دار کے مطابق صدر اوباما ایک ایسی دور رَس حکمت عملی پر بھی تبادلہء خیال کرنا چاہتے ہیں، جو فلسطین، اسرائیل اور مصر سمیت اس مسئلے کے تمام فریقین کے مابین اتفاق رائے سے طے کی جائے۔

دونوں صدور کے درمیان ملاقات میں مشرق وسطیٰ امن عمل کو سبوتاژ ہونے سے بچانے کے معاملے پر بھی گفتگو ہوگی، جو عمل غزہ کی ناکہ بندی کے سبب تعطل کا شکار ہے۔ اس امریکی عہدے دار کا مزید کہنا ہے کہ امریکی صدر فلسطین اور اسرائیل کے سامنے اپنا یہ مطالبہ بھی دہرائیں گے کہ فریقین اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں تاکہ مشرق وُسطیٰ امن عمل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ ہوں۔

UN Generalsekretär Ban Ki-moon in Zypern

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی امدادی قافلے پر حملے کی بین الاقوامی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس منگل کے روز ترکی کے راستے سے واشنگٹن پہنچے ہیں۔ غزہ کی جانب امدادی قافلے پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے تمام نو امدادی کارکنوں کا تعلق ترکی سے تھا۔ ترکی کی قیادت کی طرف سے ان اسرائیلی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے جبکہ ترکی نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرق وُسطیٰ میں قیام امن کے لئے سخت اقدامات کریں۔

دوسری طرف محمود عباس کےترجمان نبیل ابو رادینا کے مطابق فلسطینی سربراہ امریکی صدر سے اپنی ملاقات کے دوران اس بات پر بھی زور دیں گے کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی غیر مشروط طور پر ختم کرے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے کوئی بڑی پیش رفت تو متوقع نہیں ہے تاہم موجودہ صورتحال میں غزہ کے عوام کی صورتحال میں بہتری کے معاملے پر صدر اوباما صدر عباس کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجیں گے۔

رپورٹ: افسر اعوان/خبررساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی