1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما زرداری ملاقات، پاکستان میں اقتصادی اصلاحات بنیادی نکتہ

پاکستانی صدر زرادری اپنے امریکی ہم منصب اوباما سے خصوصی ملاقات کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی اور پاکستانی صدور کے مابین ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان میں مجوزہ اقتصادی اصلاحات کا موضوع بنیادی ایجنڈا رہےگا۔

default

پاکستانی صدر آصف علی زرداری

پاکستانی صدر آصف علی زرداری رچرڈ ہالبروک کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے گزشتہ روز امریکہ پہنچے۔ گزشتہ ماہ وفات پا جا نے والے رچرڈ ہالبروک، پاکستانی صدر کے ایک مضبوط حامی تصور کیے جاتے تھے۔

جب آصف علی زرداری امریکہ کے لئے روانہ ہوئے تھے تو اس وقت تک یہ واضح نہیں تھا کہ وہ اپنے امریکی ہم منصب باراک اوباما سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔ تاہم واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی کی کوششوں کے بعد دونوں صدور کی ملاقات شیڈول کی گئی۔

پاکستانی صدر آصف علی زرداری باراک اوباما کےعلاوہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور کئی دیگر اہم سیاسی شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے۔

Asif Ali Zardari Hillary Clinton

آصف علی زرداری امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے بھی ملاقات کریں گے

اطلاعات کے مطابق اس دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار پر بات کی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق ان ملاقاتوں میں امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ پاکستان سے مطالبہ کرے گی کہ وہ افغانستان سے ملحق پاکستانی قبائلی علاقوں میں طالبان باغیوں کی کارراوئیوں کو روکنے کے لئے اپنے عملی اقدامات میں تیزی لائے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا ہے کہ دونوں صدور اپنی اس ملاقات میں کئی اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے،’ دونوں رہنما پاک امریکہ اسٹریٹیجک تعلقات، اچھی طرز حکمرانی، پاکستان میں مجوزہ اقتصادی اصلاحات اور جمہوریت کے فروغ کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں پر بات کریں گے۔‘ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں پاکستان کی موجودہ اقتصادی صورتحال اور اس میں اصلاحات کا ایجنڈا سر فہرست رہے گا۔

گزشتہ ہفتے ہی پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سیاسی دباؤ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لے لیا تھا۔ جس پر امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اس عمل کو پاکستانی حکومت کی ایک غلطی قرار دیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ نے کھلے عام اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے اقدامات پاکستان کو اقتصادی سطح پر پیچھے دھکیل دیں گے۔

دوسری طرف پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکی پالیسی بنانے والی ٹیم کے سربراہ بروس ریڈل نے کہا ہے کہ سن 2011ء کے دوران صدر اوباما پاکستان میں خصوصی دلچسپی لیں گے۔ اسی طرح کئی دیگر اعلیٰ امریکی حکام نے بھی میڈیا سے گفتگو کے دوران اس امر کی تصدیق کی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کہہ رکھا ہے کہ وہ سن 2011ء کے دوران پاکستان کا دورہ کریں گے اور اسی طرح انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب زرداری کو امریکہ دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔

اس تناظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ اوباما اور زرداری کی ملاقات سے دو دن قبل ہی نائب امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران کئی اہم شخصیات سے ملاقات کی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM