1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما دلائی لامہ سے ضرور ملیں گے، وائٹ ہاؤس

چینی حکومت کے احتجاج کے باوجود امریکی صدر باراک اوباما طے شدہ پروگرام کے مطابق تبتیوں کے روحانی رہنما دلائی لامہ سے جمعرات اٹھارہ فروری کو ملاقات کر رہے ہیں۔

default

بیجنگ وزرات خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر اوباما، جلا وطن تبتی رہنما سے اپنی ملاقات منسوخ کر دیں ورنہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا ہے کہ یہ ملاقات منسوخ نہیں کی جائے گی اور صدر اوباما اپنی اس ملاقات کے دوران دلائی لامہ سے تعمیری مذاکرات کریں گے۔

اپنے پہلے سالِ صدارت میں باراک اوباما نے اپنے پیش رو صدور کے مقابلے میں مختلف انداز اپنائے رکھا۔ باراک اوباما، اپنی صدارتی مہم کے دوران، چین کی طرف سخت موقف اختیار کئے ہو ئے تھے۔ ان بلند بانگ دعوؤں کے بعد جب دنیا کو عالمی کساد بازاری نے آن گھیرا توامریکہ اور چین کے مابین کئی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں۔

Taiwan Rakete

تائیوان کو امریکی دفاعی سازوسامان کی فروخت کا معائدہ بھی دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی ایک وجہ ہے

ہلیری کلنٹن نے امریکی وزیرخارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے چین کا دورہ کیا۔ بیجنگ میں کلنٹن نے کہا کہ چین میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال کا مطلب یہ نہیں کہ اس ملک سے دوسرے معاملات پر مذاکرات نہیں کئے جا سکتے ۔ ہلیری کلنٹن کو اپنے اس بیان پر امریکہ میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی طرح گزشتہ سال باراک اوباما کو بھی دلائی لامہ سے اپنی طے شدہ ملاقات منسوخ کرنے پرکڑی تنقید سننا پڑی تھی۔ اوباما نے اپنے پہلے دورہ چین کے دوران شنگھائی میں طالب علموں کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا: ’’ آج چین اور امریکہ کے مابین مثبت ، تعمیری اور مکمل تعاون پایا جاتا ہے۔ اس تعاون کی بدولت ہم اس وقت کےکئی اہم عالمی مسائل کے حل کے لئے کام کرنے کے قابل ہوں سکیں گے۔‘‘

لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں صورتحال کافی تبدیل ہوگئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے پیرس میں اپنی ایک تقریر میں چین کو خبردار کیا کہ متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالےسے ایران پر پابندیوں کے لئے بیجنگ حکومت اپنی رضا مندی ظاہر کرے ورنہ وہ سفارتی اور اقتصادی سطح پر تنہا ہو سکتی ہے۔

اسی اثناء میں امریکہ نے تائیوان کے ساتھ چھ اعشاریہ چار بلین ڈالرمالیت کی ایک اسلحہ ڈیل بھی کی، جس پر چین نے سخت احتجاج کیا۔ اور اب ان سب باتوں کے بعد اب امریکی صدر باراک اوباما ، دلائی لامہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

Barack Obama (L) and China's Präsident Hu Jintao Flash-Galerie

امریکی صدر باراک اوباما گزشتہ سال دورہ چین کے موقع پر اپنے چینی ہم منصب ہو جن تاؤ کے ہمراہ

لبرل سینٹر فار امریکن پروگرس نامی ایک ادارے سے منسلک ایک چینی ماہر نینا ہاچی گین کے مطابق چین اور امریکہ کے مابین بدلتے تعلقات کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ انہوں نے خیال ظاہرکیا کہ امریکہ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے بلکہ یہ وقت کا تقاضہ تھا۔ نینا نے اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کا تعلق کافی پیچیدہ ہے تاہم اس کے برعکس وہ پر امید بھی ہیں ۔

ان کا کہنا ہے:’’ دونوں ممالک کئی معاملات پر ایک دوسرےپر انحصار کرتے ہیں۔ وہ معیشت ہویا سلامتی کے مسائل۔ میرے خیال میں جو موضوعات اہم ہیں، ان پر دونوں ممالک ،باہمی تعاون کے مواقع تلاش کرتے رہیں گے۔‘‘

تاہم تعاون کی کوششوں کے باوجود چین اور امریکہ کے مابین بہت سے شعبے ایسے ہیں، جن میں اکثر اختلاف رائے سامنے آتا رہے گا۔

رپورٹ: کرسٹینا بیرگمن / عاطف بلوچ

ادارت عدنان اسحاق

DW.COM