1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اوباما اور نوبیل انعام: ردعمل کا جائزہ

امریکی صدر باراک اوباما کو نوبیل انعام دینے والی کمیٹی نے متفقہ طور پر سن دو ہزار نو کے نوبیل انعام برائے امن دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اُس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

default

نوبیل انعام برائے امن دینے والی کمیٹی کے سربراہ انعام کا اعلان کرتے ہوئے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ نوبل امن انعام کے ساتھ ملنے والی نو لاکھ ستر ہزار یورو کے برابر رقم مکمل طور پر سماجی منصوبوں کے لئے وقف کر دیں گے۔ اُنہیں یہ اعزاز ’’ بین الاقوامی سفارت کاری اور اَقوام کے درمیان اشتراکِ عمل کے فروغ کے لئے غیر معمولی کوششوں‘‘ کے اعتراف میں دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اوباما کو امن کا نوبل انعام دئے جانے کے فیصلے کو ایک انتہائی اچھی خبر قرار دیتے ہوئے اِس کا خیر مقدم کیا ہے۔ بان کی مون کہتے ہیں کہ اوباما دنیا کے بڑے مسائل یعنی موسمیاتی تبدیلیوں، ایٹمی تخفیفِ اسلحہ اور امن و سلامتی کے شعبوں میں درپیش متعدد چیلنجوں کے سلسلے میں مکالمت کی ایک نئی سوچ کے علمبردار ہیں۔ صدارتی انتخابات میں اوباما کے حریف جون میک کین نے محتاط ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، اُنہیں یقین ہے کہ اوباما اِسے ایک بڑا اعزاز تصور کر رہے ہوں گے اور یہ کہ یہ اعزاز اُن توقعات کا عکاس ہے، جو اوباما کی یالیسیوں سے وابستہ کی جا رہی ہیں۔

Barack Obama Reaktion auf Friedensnobelpreis Flash-Galerie

امریکی صدر اوباما، وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں: فائل فوٹو

اب ایک نگاہ جرمن زبان کے کچھ اخبارات نے نوبل کمیٹی کے اِس فیصلے پر کیا تبصرے کئے ہیں:

ممتاز جرمن اخبار زُوڈ ڈوئچے لکھتا ہے:’’صرف آٹھ ماہ کے اقتدار کے بعد ہی صدر اوباما اُن بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں، جو اُن کے کئی پیش رَوؤں کو چار سالہ اقتدار کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتیں۔ اب لیکن اوباما آنسوؤں کی وادی میں قدم رکھ چکے ہیں اور اگلے ہفتے اور مہینے اُن کے لئے ایک بڑی آزمائش کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہو سکے گا کہ آیا اوباما درحقیقت وہ قد و قامت رکھتے ہیں، جو اُن سے مخصوص قرار دی جا رہی ہے۔‘‘

کچھ ایسی ہی رائے اخبار ’’زُوڈ وَیس پریسے‘‘ کی بھی ہے۔ اخبار لکھتا ہے:’’کہیں برسوں بعد ہم دیکھ سکیں گے کہ مغربی دُنیا اور نوبل کمیٹی نے اوباما کے لئے جو کردار تجویز کیا ہے، وہ اُس پر کس حد تک پورا اُترتے ہیں۔ ابھی تو اِس انعام کی اہمیت یہی ہے کہ اِس نے اوباما کو اُن عزائم کا ایک طرح سے پابند کر دیا ہے، جن کا وہ اظہار کرتے چلے آرہے ہیں۔‘‘

تاہم اِنہی عزائم کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار ’’لائپسیگر فوکس سائی ٹُنگ‘‘ لکھتا ہے:’’اتنے اعلیٰ پائے کا انعام محض اعلیٰ پائے کے عزائم کے لئے نہیں دیا جاتا بلکہ ایسے عملی اقدامات کے لئے دیا جاتا ہے، جو اِس کرہ ارض کو ایک قدم اور انسانی بھلائی اور انسان دوستی کی طرف لے کر جاتے ہوں۔ اور یہ اقدامات ہونا ابھی باقی ہیں۔ ابھی نہ تو گوانتانامو بند ہوا ہے، افغانستان میں بھی حالات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں اور مشرقِ وُسطےٰ میں بھی کوئی بہتری دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ انعام اوباما کے لئے ایک بھاری ذمہ داری بھی ہے اور اُن کے لئے ایک مہمیز کا کام بھی دے سکتا ہے۔‘‘