1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما اور زرداری کا دہشت گردی سے متعلق حکمت عملی پر اتفاق

امریکی صدر باراک اوباما اور ان کے پاکستانی ہم منصب آصف زرداری کے درمیان پاکستان میں دہشت پسندانہ گروپوں کے خاتمے پر مزید کوششوں کے لئے اتفاق ہوا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے منگل کو فون پر بات کی ہے۔

default

امریکی صدر اوباما نے اپنے پاکستانی ہم منصب زرداری سے ٹیلی فون پر بات کی

وائٹ ہاؤس کے اعلامیے میں کہا گیا، ’صدر اوباما اور صدر زرداری، دونوں نے ہی اتفاق کیا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت پسندانہ گروپوں کی جانب سے دونوں ممالک کو درپیش خطرے کے پیشِ نظر مزید کام کرنا ہوگا۔‘

امریکی صدر نے حال ہی اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ برس پاکستان کا دورہ کریں گے جبکہ انہوں نے پاکستان کے صدر آصف زرداری کو بھی واشنگٹن مدعو کر رکھا ہے۔ منگل کو آصف زرداری سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان میں جمہوریت اور شفاف نظم و نسق کے لئے امریکی حمایت کا یقین دلایا۔

امریکی صدر نے پاکستان کی معاشی مشکلات کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے صدر آصف زرداری سے کہا کہ اہم اقتصادی اصلاحات کے نفاذ کے لئے کام کریں، جن میں ٹیکس اصلاحات اور توانائی کے شعبے میں دی جانی والی رعایتوں پر قابو پانا شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر آئندہ برس دورہ پاکستان کا ارادہ ظاہر کیا اور آصف زرداری کو ذاتی طور پر دورہ امریکہ کی دعوت دی۔

امریکی اور پاکستانی صدور کے درمیان یہ رابطہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سٹریٹیجک مذاکرات کے بعد ہوا ہے۔

Pakistan Präsident Asif Ali Zardari

امریکی صدر نے آصف علی زرداری کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے

امریکہ نے گزشتہ برس پاکستان کو دو ارب ڈالر کے اسلحہ پیکیج کی پیش کش تھا۔ ساتھ ہی خبردار کیا تھا کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

گزشتہ جمعہ کو سٹریٹیجک مذاکرات کے تیسرے دَور کے اختتام پر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا تھا کہ واشنگٹن انتظامیہ کانگریس سے دو ارب ڈالر کے عسکری پیکیج کی منظوری کے لئے کہے گی۔ یہ پیکیج 2012ء سے 2016ء کے عرصے کے دوران دیا جائے گا اور یہ قبل ازیں دئے گئے ایک عسکری پیکیج کا متبادل ہے، جس کی مدت ختم ہو چکی ہے۔

پانچ سالہ معاونت کا یہ منصوبہ دراصل پاکستانی فوج کی اہم درخواست کا جواب ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اپنا اہم حلیف قرار دیتا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں کو القاعدہ اور اس سے وابستہ دہشت پسندانہ گروپوں کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے، جہاں پاکستانی فوج کارروائیاں کر رہی ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کی رسد کا ایک اہم حصہ پاکستان کے راستے ہی وہاں پہنچتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM