1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اوباما انتظامیہ کے چھ ماہ, امریکی ساکھ میں واضح بہتری

باراک اوباما امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو اُنہیں امریکہ کے ساتھ ساتھ پوری دُنیا میں بھی ایک نجات دہندہ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اوباما دُنیا کو درپیش سنگین مسائل کے حل سامنے لائیں گے۔

default

اوباما کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد امریکی ساکھ کی بحالی کو ان کی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج سمجھا جا رہا تھا

آج اوباما کو صدر کے عہدے پر چھ مہینے پورے ہو رہے ہیں۔ واشنگٹن سے کرسٹینا بیرگ مان نے اپنے تبصرے میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اوباما سے وابستہ کی جانے والی بہت سی توقعات پوری ہوئی ہیں۔

تبصرہ :

یہ ایک بڑا وعدہ تھا، جو باراک اوباما نے صدر کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالنے سے پہلے کیا تھا۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ دُنیا میں امریکہ اور اُس کے صدر کی ساکھ کو پھر سے بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اُنہوں نے امریکی رائے دہندگان کے دل کی بات کی تھی۔ امریکی نہیں چاہتے تھے کہ بیرونی دُنیا میں اُنہیں مزید اپنی شہریت اور اپنے سربراہِ مملکت کے باعث شرمندگی اٹھانا پڑے۔

اوباما کے پیش رو جارج ڈبلیو بُش کے دور میں امریکہ ایک طرح سے عالمگیر کالی بھیڑ کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ ہر کوئی امریکیوں پر انگلی اٹھاتا تھا، کوئی بھی اُن کے ساتھ تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ یکطرفہ کارروائیوں پر اصرار اور ترقی مخالف تنگ نظری بُش دَورِ حکومت کے امتیازی اوصاف تھے۔ عراق جنگ کے معاملے میں کہا گیا کہ وہ تو ہم آسانی سے جیت لیں گے۔ مشرقِ وُسطےٰ تنازعے کے بارے میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ خود ہی کسی طرح سے حل ہو جائے گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے مسئلے کی موجودگی ہی سے انکار کر دیا گیا۔ بین لاقوامی تنظیموں کو بے سُود قرار دے دیا گیا۔ ان پالیسیوں نے بُش حکومت کو دنیا بھر میں تنہا کر دیا۔

Barack Obama in Cairo

اوباما نے مصر میں عالم اسلام سے خطاب کر کے کئی غلط فہمیوں کا خاتمہ کیا

پھر اوباما برسرِ اقتدار آئے اور دُنیا نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے ایک نئے دَور کو خوش آمدید کہا۔ وائٹ ہاؤس میں آنے والی نئی شخصیت نے تشدد کی ممانعت کر دی، گوانتانامو بند کر دیا، عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان کر دیا اور دُنیا کے بحران زدہ علاقوں میں اپنے خصوصی مندوب روانہ کر دئے۔ خود امریکہ میں بھی سکھ کا سانس لیا گیا۔ تحفظ ماحول کے وفاقی ادارے کے پاس موجود سائنسی معلومات کی قدر و قیمت پھر سے محسوس کی جانے لگی۔ ریاست کیلی فورنیا کو کاروں سے خارج ہونے والی گیسوں سے متعلق سخت ضوابط نہ صرف اپنے ہاں متعارف کروانے کی ا جازت ملی بلکہ ضرر رساں گیسوں کے اخراج کی زیادہ سے زیادہ مقدار کو پورے ملک میں رائج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ امریکہ نے تحفظ ماحول کی کوششوں میں شریک ہونے کا بلکہ قائدانہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی معیشت میں بھی ایسے آثار نظر آيے لگے، گویا مسلسل پستی کی طرف سفر رُک گیا ہو۔

کئی ایک شعبوں میں پیشرفت نہ ہونے کے باوجود امریکی عوام بہرحال اپنے صدر سے بڑی حد تک مطمئن ہیں۔ بیرونی دُنیا میں بھی اوباما کا پُرجوش طریقے سے خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ پیرس، پراگ، قاہرہ یا گھانا میں عوام اگر امریکی پرچم لہراتے ہوئے اوباما کا خیر مقدم کرتے ہیں تو قائدین اوباما کی قربت اور تعاون کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔ یہ بات بلاشبہ کہی جا سکتی ہے کہ گذرے چھ مہینوں میں دنیا میں امریکہ کی ساکھ میں انقلابی تبدیلی آئی ہے اور اوباما نے اپنے وعدے پورے کئے ہیں۔

تبصرہ : کرسٹینا بیرگ مان، واشنگٹن / امجدعلی

ادارت : کشور مصطفیٰ