1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما، امیدیں اور پہلا خطاب

باراک اوباما نے امریکی صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ دنیا بھر میں باراک اوباما امیدکی کرن قرار دئیے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے کرسٹینا بیرگ مان کا لکھا تبصرہ:

default

امریکی صدر باراک اوباما عہدہ سنبھالنے کے بعد

نہ صرف امریکہ کے کروڑوں عوام بلکہ پوری دنیا کے لوگو ں کواس دن کا انتظار تھا۔ باراک اوباما کے امریکہ کے 44 ویں صدر بننے کے ساتھ ہی ملک کو ایک نیا چہرہ ملا ہے۔وہ ایسے صدر ثابت نہیں ہوں گے کہ ایک بارجو حکمت عملی اختیار کر لی اس پرہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اڑے رہیں خواہ اپنا یا دوسروں کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو رہا ہو۔ اوباما ایک ایسے شخص ہیں جو ناقدین کی بات کو بھی توجہ سے سنتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ اب اکیلے سیاسی فیصلے کرنے کا وقت گزرچکا ہے۔ نئے صدر نے اپنی اولین تقریرمیں ہی اپنے پیش رو جارج ڈبلیو بش کی پالیسیوں کو واضع طور پررد کر دیا۔ اوباما نے اپنے ہم وطنوں کو خبردارکیا کہ سلامتی کو یقینی بنانے کی کوششوں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکی اقدارکو خیرباد کہہ دیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ لیکن اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ اپنی من مانی کرتا پھرے۔ اپنی پہلی تقریرمیں اوباما نہ صرف اپنے مداحوں بلکہ باقی ماندہ دنیا کی توقعات پر بھی پورا اترے۔

عراق سے امریکی فوجوں کا انخلا، افغانستان میں قیام امن، ایٹمی اسلحے میں تخفیف، ماحولیاتی مسائل سے عہدہ برا ہونا اوراسی طرح کے اہم موضوعات پرانہوں نے اپنی پہلی تقریرمیں بھرپور روشنی ڈالی۔

ملکی اقتصادی بحران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ فوراً ان سے اونچی امیدیں وابستہ نہ کریں کیوں کہ مسائل زیادہ ہیں اوربحران شدید۔ تاہم انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔

امریکہ کے نئے چہرے کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ 60 سال قبل ان کے والد کو ملک کے بیشتر ریستورانوں میں شاید بیٹھنے کی بھی اجازت نہ ملی ہو گی لیکن آج ایسا نہیں ہے۔

تاہم افریقی نژاد امریکیوں کی برابری کے حصول کی جد وجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی ملک میں سیاہ فام بالغ افراد کی آمدنی سفید فاموں کے مقابلے میں کم ہے۔ آج بھی سیاہ فام بچے تعلیم کے میدان میں سفید فام بچوں سے پیچھے ہیں۔ بحرحال حقوق انسانی کے علمبردار سیاہ فام مارٹن لوتھرکنگ کا برابری کا خواب باراک حسین اوباما کے صدر بننے سے بہت حد تک پورا ہونے کے قریب آ گیا ہے۔