1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما ارجنٹائن میں: کیا یہ دورہ ماضی کے حقائق تبدیل کرسکے گا؟

امریکی صدر باراک اوباما ایک انتہائی غیر معمولی دورے پر جمعرات کے روز ارجنٹائن پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صدر کا یہ دورہ ارجنٹائن میں امریکی حمایت سے ہونے والی بغاوت کے چالیس سال پورا ہونے کے موقع پر عمل میں آ رہا ہے۔

اوباما نے بیونس آئرس پہنچنے پر ارجنٹائن میں 1976ء سے 1983ء کے آمرانہ دور میں ہلاک کیے جانے والوں کی یادگار کا دورہ کیا۔ آمریت کے اُس دور میں رونما ہونے والے واقعات کو تاریخ میں ’’ڈرٹی وار‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مارکسسٹ باغیوں، اپوزیشن کارکنوں، بائیں بازو کے حلقوں اور مزدور تنظیموں کے خلاف سات سالہ کریک ڈاؤن میں ارجنٹائن کی جنتا فورسز نے 30 ہزار انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

بیونس آئرس میں قائم ہلاک شدگان کی یادگار کے طور پر قائم ایک پارک کا دورہ کرتے ہوئے اوباما نے کہا،’’امریکا کی اُس تاریک دور کے بارے میں پالیسیوں کے حوالے سے تنازعات پائے جاتے ہیں۔ جمہوری حکومتوں کو اتنی ہمت و جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ یہ ہمیشہ اُن حقیقتوں کے ساتھ نہیں چل رہی ہوتیں جنہیں وہ اپنا آئیڈیل سمجھتی ہیں۔ ارجنٹائن کے معاملے میں انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا عمل سست روی کا شکار رہا ہے۔‘‘

Argentinien - Barack Obama und Mauricio Macri am Denkmal für die Opfer der argentinischen Diktatur

اوباما اور ارجنٹائن کے صدر بیونس آئرس میں قائم ہلاک شدگان کی یادگار کے طور پر قائم ایک پارک کے دورے پر

یہ یادگار پارک لالا پلاٹا دریا کے کنارے واقع ہے۔ آمریت کے دور میں ہلاک کیے جانے والوں کی دعائیہ تقریب میں اوباما اور ارجنٹائن کے صدر ماؤریسیو ماکری نے دریا کے پانی میں سفید گلاب بھی پھینکے۔

گزشتہ ہفتے امریکا نے اعلان کیا تھا کہ وہ ارجنٹائن کی حکومت کے ایما پر ایسی مزید فوجی اور انٹیلی جنس دستاویزات جاری کرے گی جو کہ 1976ء سے 1983ء تک جاری رہنے والی ’’ڈرٹی وار‘‘ اور آمریت کے دور سے متعلق ہیں۔یہ وہ دور تھا جب سرد جنگ کے زمانے کی سوچ کے مطابق واشنگٹن کو اکثر و بیشتر لاطینی امریکا کی دائیں بازو کی حکومتوں کی پشت پناہی کرنے والی حکومت گردانا جاتا تھا۔

باراک اوباما کے اس خاص موقع پر ارجنٹائن کے دورے کو انسانی حقوق کے لیے سرگرم چند عناصر کی طرف سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان عناصر کی طرف سے اوباما کے دورے کو اشتعال انگیزی سے عبارت کہا جا رہا ہے۔

بیونس آئرس میں قائم سینٹر فار ہیومن رائٹس ایڈوکیٹ کے بیان میں کہا گیا ہے،’’ہم لاطینی امریکا میں آمریت کا ساتھ دینے والوں اور دنیا بھر میں انسانوں پر ظلم کرنے اور ہمارے 30 ہزار ہم وطنوں کی ہلاکت کے موضوع کو استعمال کرتے ہوئے خود کو پاک صاف ظاہر کرنے والوں اور اپنا سامراجی ایجنڈا مضبوط کرنے والوں کو یہ سب کچھ نہیں کرنے دیں گے۔‘‘

Barack Obama Rede an das kubanische Volk Kuba Gran Teatro de la Habana Alicia Alonso

اوباما ارجنٹائن سے پہلے کیوبا کے دورے پر تھے

اوباما نے ُبدھ کو ایک بیان میں کہا تھا،’’ارجنٹائن کو انسانی حقوق کے تحفظ کے ضمن میں امریکا کے عزم کے شانہ بشانہ چلتے دیکھنا نہایت مسرت بخش عمل ہے۔‘‘ تاہم ارجنٹائن کے صدر ماؤریسیو ماکری کے مخالفین اس امر سے بالکل متفق نہیں ہیں کہ سماجی طور پر قدامت پسند ماکری انسانی حقوق کے محافظ ہیں۔

اوباما کے ارجنٹائن کے دورے کا مقصد وہاں کے صدر ماؤریسیو ماکری کی حمایت کا اظہار بھی ہے، جنہوں نے اپنی پیشرو، کرسٹینا فرنانڈیز کی قوم پرست پالیسیوں سے بالکل مختلف پالیسی اختیار کی ہے۔ کرسٹینا نے امریکا اور وال اسٹریٹ کے خلاف متعدد بار ریلیاں نکالی تھیں۔

DW.COM