1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما۔کرزئی ملاقات آج ہو گی

امریکہ نے افغانستان کو یقین دلایا ہے کہ وہ اسے تنہا نہیں چھوڑے گا۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ سوویت دَور کی لاپرواہی دہرائی نہیں جائے گی۔ یہ مؤقف افغان صدر حامد کرزئی کی باراک اوباما سے ملاقات سے قبل سامنے آیا ہے۔

default

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن افغان صدر ‍حامد کرزئی کے ساتھ

امریکہ اور افغانستان کے درمیان منگل کو اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات کی صدارت امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کی جبکہ افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ دونوں جانب کے سفارت کار، دفاعی، عسکری اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ اہلکار بھی شریک ہوئے۔

Obama überraschend in Afghanistan

امریکی صدر باراک اوباما اور افغان صدر حامد کرزئی

کابل اور واشنگٹن حکام کے درمیان افغانستان میں حکومتی سطح پر بدعنوانی پر گزشتہ کچھ عرصے سے چلی آ رہی تلخی کے بعد اس اعلیٰ سطحی رابطے میں باہمی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ اجلاس انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا، جو رواں برس صدر باراک اوباما کے دورہ افغانستان کے بالکل برعکس تھا۔ اس وقت انہوں نے وہاں محض چھ گھنٹے گزارے اور اپنے میزبان کرزئی کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں بھی پوری طرح شریک نہیں ہوئے۔

آج باراک اوباما وائٹ ہاؤس میں اپنے افغان ہم منصب حامد کرزئی سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس موقع پر دونوں رہنما ایک مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب بھی کریں گے۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ افغانستان کے ساتھ طویل المدتی تعلق کا خواہاں ہے اور دونوں جانب سے تعلقات پر منفی اثر ڈالے بغیر کسی معاملے پر مختلف نظریات کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی افغانستان میں ایک ذمہ دارانہ اور باترتیب بین الاقوامی جنگی مشن کی طرف بڑھ رہے ہیں اور افغان عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

Belgien Nato Verteidigungsminister in Brüssel Robert Gates

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس

امریکہ کی جانب سے آئندہ برس جولائی میں افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کا عمل شروع کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر وہاں متعدد حلقے تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ امریکہ 1989ء کی طرح ایک مرتبہ پھر ان کا ساتھ چھوڑ دے گا۔ تاہم کلنٹن نے ان خدشات کو دُور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی لاپرواہی کا مظاہرہ پھر نہیں کیا جائے گا اور یہ بات صدر باراک اوباما واضح کر چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے پینٹا گون میں افغان دفاعی اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ اہلکاروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے بھی کہا کہ کابل کے ساتھ واشنگٹن کا تعلق طویل المدتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلق دیرپا ہونا چاہئے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM