1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

ان بیاہی ماؤں کی غیر قانونی ’بچہ مارکیٹ‘ میں بڑھتی مانگ

بھارتی پولیس کو خدشہ ہے کہ گوالیار میں ایک نجی ہسپتال کا عملہ ایک لاکھ روپے کے عوض بچے فروخت کر رہا تھا۔ ہسپتال کے لیے کام کرنے والے ایجنٹ منظم طریقے سے ان بیاہی ماؤں کو اس ہسپتال میں بچے پیدا کرنے کی ترغیب دے رہےتھے۔

انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ایک نرس روتی ہوئی ایک بچی کو بہلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس بچی کو پولیس نے ایک ایسے ہسپتال پر چھاپے کے دوران بازیاب کیا ہے جس کے بارے میں حکام کو شبہ ہے کہ وہاں نومولود بچوں کو ’بلیک مارکیٹ‘ میں فروخت کیا جاتا تھا۔

نرس کہتی ہے، ’’یہ بچی بہت کم زور ہے اور اسے خاص نگہداشت کی ضرورت ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے نرس نے بچی کو تھپکی دینا شروع کی۔ بچی کا وزن انتہائی کم ہے اور اب اس کا ایک حکومتی ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔

نرس کا مزید کہنا تھا، ’’میں دعا کرتی ہوں کہ کوئی نیک جوڑا اس بچی کو گود لے لے گا اور اسے اپنی اولاد کی طرح پالے گا۔‘‘

گوالیار کی پولیس کو خدشہ ہے کہ پالاش نامی نجی ہسپتال غیر قانونی طریقے سے نومولود بچوں کو ’بلیک مارکیٹ‘ میں فروخت کرنے کے دھندے میں ملوث ہے، اور اس کے لیے ایجنٹ ان بیاہی ماؤں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ وہ انہیں ترغیب دیتے ہیں کے اسقاط حمل کرانے کے بجائے وہ بچوں کو پالاش ہسپتال میں جنم دیں۔ پیدا ہونے کے بعد ان بچوں کو محض ایک لاکھ روپے میں بیچ دیا جاتا ہے۔

پولیس افسر کمار پارتیک کا اس بارے میں کہنا ہے: ’’ایجنٹس تن دہی کے ساتھ اُن حاملہ خواتین کو تلاش کرتے ہیں جو اسقاط حمل کرانا چاہتی ہیں، تاہم یہ ایجنٹ ان کو اس بات پر آمادہ کر لیتے ہیں کہ وہ بچہ پیدا کر کے اسے ان کے حوالے کر دیں۔‘‘

''یہ ان بیاہی مائیں ہوتی ہیں، اور ڈری ہوئی ہوتی ہیں۔ ہسپتال ان کے خوف سے فائدہ اٹھا کر انہیں خفیہ طور پر بچہ پیدا کرنے کی سہولت کی پیش کش کر تا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ ان بیاہی ماؤں کو بھارت اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک، بہ شمول پاکستان میں عمومی طور پر بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

پولیس کے مطابق اس نے پالاش ہسپتال سے پانچ نو مولود بچوں کا بازیاب کیا ہے۔ اس ہسپتال کو اب بند کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق حالیہ چند سالوں میں وہاں سات سو بچے پیدا ہوئے ہیں۔ ان بچوں کو پیدائش کے بعد بچہ گود لینے والوں کو بیچ دیا جاتا ہے۔

اس طرح کے واقعات بھارت میں عام ہیں، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس لیے غیر معمولی ہے کہ اسے ایک نیٹ ورک کی طرح چلایا جا رہا تھا۔