1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

انیس سالہ جرمن لڑکی کا مشتبہ قاتل نابالغ افغان مہاجر گرفتار

جرمن پولیس نے ایک انیس سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے قتل کر دینے کے شبے میں ایک سترہ سالہ افغان مہاجر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ نابالغ افغان لڑکا سن دو ہزار پندرہ میں اکیلا ہی جرمنی پہنچا تھا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے فرائی بُرگ پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس سال اکتوبر میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد قتل کر دی جانے والی جواں سال جرمن طالبہ کے کیس کی تحقیقات میں انتہائی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پولیس جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس افغان لڑکے اور مقتولہ میں پہلے سے کوئی شناسائی تھی یا نہیں۔

جرمنی، افغان مہاجرین کا وطن واپسی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

جرمنی: مال برادر ٹرین سے پاکستانی اور افغانی مہاجر برآمد

جرمنی سے مہاجرین کی ملک بدری کا ’نیا ریکارڈ‘

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب نصب کردہ خفیہ کیمروں میں اس افغان مہاجر کو دیکھا گیا تھا تاہم بعد ازاں جائے حادثہ پر پولیس اہلکاروں کو ایک انسانی سر کا ایسا بال بھی ملا تھا، جس کے بعد پولیس کو مزید شبہ ہو گیا تھا کہ یہ بال بھی اسی افغان پناہ گزین لڑکے کا ہے۔

پولیس کے مطابق اس بال کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ بال واقعی اسی لڑکے کا ہے، جو جائے حادثے پر اس طالبہ کے قتل سے کچھ دیر پہلے دیکھا بھی گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم کا ہیر اسٹائل اور بالوں کا رنگ بہت منفرد تھا۔ اکتوبر میں اس جرمن لڑکی کی لاش ایک دریا سے ملی تھی، جس کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کر دی تھی۔

فرائی بُرگ پولیس نے بتایا ہے کہ مقتولہ رواں برس سولہ اکتوبر کی شام کو ایک پارٹی کے بعد اپنی سائیکل پر سوار واپس جا رہی تھی کہ اس پر حملہ کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس کی تفتیش کے لیے چالیس تحقیق کار تعینات کیے تھے۔

اس تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ ڈیوڈ مُیولر نے ڈی پی اے کو بتایا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ کیس تھا لیکن انتہائی باریک بینی سے مکمل کیے جانے والے تفتیشی عمل میں حکام کامیاب رہے۔

پولیس کے مطابق جس مقام سے مقتولہ کی سائیکل ملی تھی، وہاں جھاڑیاں تھیں۔ تفتیش کی خاطر پولیس نے اس مقام پر موجود جھاڑیوں کے نمونوں سے بھرے تین بڑے بڑے بیگز کا بغور معائنہ کیا ، جس دوران ملزم کا ایک بال بھی تفتیشی اہلکاروں کے ہاتھ لگا تھا۔

پولیس کے مطابق اس کیس کی تفتیش کے دوران چودہ سو افراد کے انٹرویو کیے گئے جبکہ سولہ سو مختلف شہادتوں پر غور کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ سترہ سالہ ملزم سن دو ہزار پندرہ میں افغانستان سے اکیلا ہی بطور مہاجر جرمنی پہنچا تھا اور وہ ایک مقامی جرمن خاندان کے ساتھ رہ رہا تھا۔ حکام نے گرفتار کیے گئے اس مشتبہ افغان پناہ گزین کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

DW.COM