1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انگیلا میرکل کی نجی اور سیاسی زندگی کا ایک مختصر جائزہ

کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی خاتون قائد نے اپنے قدم سیاسی بساط پر ایسے جمائے کہ 2009 ء کے پارلیمانی انتخابات میں انہیں پھر سے چانسلر بننے کا موقع مل گیا ہے۔

default

انگیلا میرکل 17 جولائی 1954ء کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ہارسٹ کاسنر ماہر الٰہیات تھے اور ان کی والدہ لاطینی اور انگریزی زبان کی ٹیچر تھیں۔ سابق جرمن ڈیمو کریٹک ریپبلک جی ڈی آر کے دور میں جرمنی کے مشرق حصے میں پروان چڑھنے والی انگیلا میرکل کبھی جرمنی کی سب سے مقبول اور طاقت ور ترین سیاسی شخصیت بنیں گی، یہ میرکل سمیت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ انگیلا میرکل نے فزکس یعنی طبیعیات جیسے شعبے میں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیاست میں آ کر اتنی شہرت اور کامیابی حاصل کی، یہ امر سب ہی کے لئے تعجب کا باعث ہے۔ تاہم جرمنی میں میرکل کی سیاسی قیادت کو ملکی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔

Die CDU-Vorsitzende und designierte Bundeskanzlerin Angela Merkel laechlt am 12. November 2005 in Berlin

میرکل کی پیدائش کے چند ہفتوں بعد ہی ان کے والدین ہیمبرگ سے ہجرت کر کے سابق جرمن ڈیمو کریٹک ریپبلک جی ڈی آر جا بسے۔ برلن اور برانڈن برگ انتظامیہ کی طرف سے انہیں پروٹسٹنٹ چرچ میں پادری مقرر کر دیا گیا۔ تین سال بعد 1957ء میں انگیلا میرکل کے والد کو شہر ٹیمپلین کے ایک چرچ کے ادارے میں نوکری مل گئی۔ اس کے بعد سے یہ فیملی ٹیمپلین میں ہی آباد ہو گئی۔ 1957ء میں میرکل کے بھائی مارکوس کاسنر کی پیدائش ہوئی اور سات سال بعد یعنی 1964ء میں انگیلا میرکل کی چھوٹی بہن ارینے اس دنیا میں آئیں۔ اس طرح یہ تین بھائی بہن ہیں۔

ابتدائی تعلیم سے لے کر تیرہویں جماعت تک میرکل نے سابق مشرقی جرمنی کے ایک چھوٹے سے شہر ٹیمپلین میں حاصل کی۔ نوجوانی کے دور سے ہی انہیں سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔ وہ اسٹوڈنٹس موومنٹس میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ اس وقت مشرقی جرمنی کے سب سے اہم، تاریخی اور ثقافتی مرکز کی حیثیت رکھنے والے شہر لائپسگ کی مشہور زمانہ یونیورسٹی سے میرکل نے فزکس کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ جس کے بعد انہوں نے فزکس کے ہی ایک نہایت اہم موضوع پر تحقیق کرتے ہوئے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انیس سو نوے سے لے انیس سو اٹھانوے تک میرکل کرسچن ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو کی قائم مقام حکومتی ترجمان رہیں۔ انیس سو اٹھانوے سے لے کر دو ہزار دو تک انگیلا میرکل سی ڈی یو کی جنرل سیکریٹری رہیں اور سن دو ہزار میں انہیں کرسچین ڈیموکریٹک یونین کا صدر منتخب کر لیا گیا۔

Nahost Deutschland Angela Merkel vor Libanon Beitrut

دو ہزار دو سے دو ہزار پانچ تک انگیلا میرکل وفاقی جرمن پارلیمان میں سی ڈی یو/ سی اس یو کے پارلیمانی دھڑے کی سربراہی کرتی رہیں اور بالآخر نومبر 2005 کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے انگیلا میرکل جرمنی کی چانسلر بن گئیں۔ اس وقت میرکل نے ایک بیان میں کہا تھا:

:مجھ جیسی ایک خاتون، جس کا تعلق سابق جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک جی ڈی آر سے ہے، کے لئے دوبارہ متحد جرمنی میں چانسلر کے عہدے پر فائز ہونا اور جرمنی کی سیاسی زندگی میں مکمل طور پر ضم ہوجانا کچھ خاص مشکل نہ تھا۔ محض دس ماہ کے اندر اندر یہ سب کچھ میری روز مرہ زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔:

انگیلا میرکل نے جب اپنی سیاسی زندگی میں قدم رکھا تھا، اس وقت انہیں ’کوہلز میدشن یا کوہل کی لڑکی‘ کہا جاتا تھا۔ اس لئے کہ میرکل کو جرمن سیاست اور خاص طور سے کرسچن ڈیمو کریٹک یونین کی سیاست کی بنیادی تربیت سابق جرمن چانسلر اور کرسچن ڈیمو کریٹ لیڈر ہیلمٹ کوہل سے ہی ملی تھی۔ 20 سال قبل، 3 اکتوبر کو جرمنی کے دوبارہ متحد ہونے کے تاریخی واقعے کے ساتھ ہی میرکل کی سیاسی زندگی کا ایک نیا باب بھی شروع ہوا۔ اس وقت تک انگیلا میرکل جی ڈی آر کی قائم مقام حکومتی ترجمان تھیں۔ جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے بعد میرکل کو وفاقی جرمن پریس اور اطلاعات کے وفاقی دفتر کی مشاورتی کمیٹی کی سربراہی کے فرائض سونپ دئے گئے۔ چند ماہ کے اندر اندر ہی میرکل سی ڈی یو کی قائم مقام حکومتی ترجمان بن گئیں اور یوں کرسچین ڈیموکریٹک ریپبلک کی مستقبل کی خاتون قائد نے اپنے قدم سیاسی بساط پر جمانے شروع کر دئے۔ اتنی کامیابی سے وہ آگے بڑھتی رہیں کہ 2009 ء، 3 اکتوبر کو جرمنی کے دوبارہ متحد ہونے کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر انگیلا میرکل کے دوبارہ جرمن چانسلر منتخب ہونے کی خوشیاں بھی منائی جا رہی ہیں۔

انگیلا میرکل 30 دسمبر 1998 سے کیمسٹری کے ایک پروفیسر یوآخم زاؤر کی زوجیت میں ہیں۔ پروفیسر یوآخم کی یہ دوسری شادی ہے۔ میرکل کی کوئی اپنی اولاد نہیں تاہم ان کے شوہر کی پہلی شادی سے دو بیٹے ہیں، جو اب انگیلا میرکل کے سوتیلے بیٹے ہیں۔

جائزہ: کشور مصطفٰی

ادارت: امجد علی