1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انگیلا میرکل پر بڑھتی تنقید

گزشتہ موسم خزاں میں جرمنی میں عام انتخابات کے بعد، جب سے انگیلا میرکل دوبارہ چانسلر بنی ہیں، انہیں اپنے طرز قیادت کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔

default

پہلے مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں فری ڈیمو کریٹک پارٹی FDP اور کرسچین سوشل یونین CSU دونوں ان پر سرعام تنقید کرتی رہیں۔ لیکن اب وفاقی چانسلر پر خود ان کی اپنی جماعت بھی تنقید کر رہی ہے۔ کرسچین ڈیمو کریٹک یونین CDU کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ میرکل کا انداز حکومت کرسچین ڈیموکریٹک اقدار کی نشاندہی نہیں کرتا۔

Westerwelle Merkel und Seehofer

جرمنی کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے رہنما، دائیں سے بائیں ہورسٹ زے ہوفر CSU , انگیلا میرکل CDU اور گیڈو ویسٹر ویلے FDP

چانسلر میرکل کو فی الحال خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن انہیں اپنی ہی پارٹی کی طرف سے تنقید کو سنجیدگی سے ضرور لینا چاہیے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انگیلا میرکل اس معاملے پر غور عوامی سطح کی بجائے، پارٹی سطح پر زیادہ سنجیدگی سے کریں گی۔ وفاقی چانسلر کو گھبرانے کی ضرورت اس لئے بھی نہیں کہ اب ان پر تنقید مختلف جماعتوں کے صوبائی پارلیمانی سطح کے سیاستدان کر رہے ہیں۔ جن صوبوں میں میرکل پر یہ تنقید کی جا رہی ہے، وہاں صوبائی وزرائے اعلیٰ زیادہ تر خود میرکل کی اپنی جماعت کے ہیں۔

تاہم انگیلا میرکل کو پریشانی تو تب ہوتی جب یہ صوبائی حکومتی سربراہان بھی ان پر تنقید کرتے۔ لیکن سوائے ایک کے CDU کے کسی بھی وزیر اعلیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ بس زارلینڈ کے وزیر اعلیٰ Peter Müller نے انگیلا میرکل پر دبے لفظوں میں یہ الزام لگایا کہ وہ چانسلر اپنی جماعت سی ڈی یو کے پارٹی پروگرام سے منحرف ہو رہی ہیں۔

انگیلا میرکل پر تنقید کرنے والوں کا تعلق زیادہ تر سیکسنی، تھیورنگیا، برانڈن برگ اور ہیسے کی وفاقی ریاستوں سے ہے۔ ان سبھی صوبوں میں گزشتہ انتخابات میں کرسچین ڈیموکریٹک یونین کو ووٹ پہلے کی نسبت کم ملے تھے۔

Bundeswehr-Gelöbnis vor dem Reichstag

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

جرمن چانسلر پر پچھلی صفوں سے کی جانے والی تنقید شاید کسی حد تک ٹھیک بھی ہو۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کرسچین ڈیموکریٹس میں سے قدامت پسند نظریات کے حامل ووٹروں کی نظر میں انگیلا میرکل ضرورت سے زیادہ جدت پسند ہیں۔ اسی ہفتے کے اواخر میں CDU کے تمام بڑے رہنما ایک پارٹی کنوینشن کے لئے جمع ہوں گے۔ پھر فورا بعد انگیلا میرکل پالیسی مذاکرات کے لئے اپنی مخلوط حکومت میں شامل باقی دونوں جماعتوں کے رہنماؤں ہورسٹ زیہوفر اور گیڈو ویسٹرویلے سے بھی ملیں گی۔

اس بحث میں اگر میرکل اپنا موقف سخت انداز میں پیش کریں، تو کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ اس لئے کہ ان کے نقاد بھی یہی چاہتے ہیں۔ یوں سی ڈی یو اور اس کے حکومتی اتحادیوں کے تعلقات میں سرد مہری بھی آ سکتی ہے۔ لیکن انگیلا میرکل کا ایک مسئلہ تو یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنا اب تک کا رویہ برقرار رکھتی ہیں، تو ان پر اور ان کے طرز قیادت پر کی جانے والی تنقید میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

تبصرہ : پیٹر شٹٹسلے/ ترجمہ : امتیاز احمد

ادارت : مقبول ملک