1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

انگيلا ميرکل سُرخُرو ليکن عملی اقدامات کی ضرورت ہے

جرمنی ميں داخلی سطح پر مہاجرين کے حوالے سے جاری بحث ميں جرمن چانسلر اپنی جماعت کے اتحاد کی بدولت سُرخُرو تو ہو گئيں تاہم آئندہ برس ہونے والے رياستی انتخابات سے قبل انہيں اپنے وعدوں اور ارادوں کو عملی جامع پہنانا ہو گا۔

تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دس برس تک اقتدار ميں رہنے کے بعد جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کے سياسی کيريئر کے خاتمے کے بارے ميں کی جانے والی پيشن گوئياں اب ٹھنڈی پڑ جائيں گی۔ ميرکل نے پير چودہ دسمبر کو کرسچن ڈيموکريٹک يونين کی سالانہ کانگريس ميں حکومت کی پناہ گزينوں سے متعلق پاليسی کے ناقدين کو نہ صرف منہ توڑ جواب ديا بلکہ وہ جماعت کے اتحاد کی بدولت مقابلتاً مستحکم پوزيشن ميں دکھائی ديں۔ کارلس روہے ميں منعقدہ اس اجلاس ميں جرمن چانسلر نے فيصلہ کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سی ڈی يو کے سينئر اہلکاروں کو اس بات کی بھی يقين دہانی کرائی کہ سياسی پناہ کے ليے جرمنی آنے والوں کی تعداد ميں کٹوتی کی جائے گی۔

جرمن ذرائع ابلاغ ميں اس حوالے سے چانسلر کی تعريفوں کے پُل باندھے جا رہے ہيں۔ نيوز ويب سائٹ ڈيئر اشپيگل ميں لکھا ہے، ’’اس تقريب سے قبل ميرکل پر کافی تنقيد کی جا رہی تھی ليکن واضح اور پُر زور کارکردگی کی مدد سے انہوں نے تنقيد کو بے معنی کر ديا۔‘‘ مزيد لکھا ہے کہ چانسلر کو لاحق خطرات فی الحال ٹل گئے ہيں۔ جرمنی ميں سب سے زيادہ فروخت ہونے والے اخبار بلڈ کے مطابق يہ ميرکل کا ’مضبوط ترين لمحہ‘ تھا۔

جرمن رياست نارتھ رائن ويسٹ فيليا کے قانون ساز کرسٹيان ہارٹ کے بقول ميرکل کی متاثر کن تقرير کی بدولت ان کی جماعت سی ڈی يو (CDU) کو آئندہ برس مارچ ميں ہونے والے تين اہم رياستوں ميں انتخابات ميں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ميرکل کے خطاب نے پارٹی اور ملک دونوں کو اتحاد اور اعتماد کا درست پيغام ديا۔‘‘ تاہم ان کا يہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی کے ارکان ووٹرز سے زيادہ وفادار ہوتے ہيں اور وہ اب بھی نتائج ديکھنے کے ليے بے چين ہيں۔

اس سال جرمنی پہنچنے والے پناہ گزينوں کی تعداد ايک ملين سے تجاوز کر چکی ہے

اس سال جرمنی پہنچنے والے پناہ گزينوں کی تعداد ايک ملين سے تجاوز کر چکی ہے

جرمن رياست سيکسنی ميں وزير برائے سماجی امور باربرا کليپش کے بقول مقامی سياستدانوں کا کام کافی بڑھ گيا ہے۔ يہ وہی رياست ہے جہاں اسلام مخالف تنظيم پيگيڈا کا جنم ہوا اور جہاں تارکين وطن کی رہائش گاہوں پر حملوں کا تناسب سب سے زيادہ ہے۔ خبر رساں ادارے اے ايف پی سے بات چيت کرتے ہوئے باربرا کليپش کا کہنا تھا، ’’ہميں شہروں اور ديہاتوں میں ايسی صورتحال کا سامنا ہے جو کہ ہم نے دوسری عالمی جنگ کے بعد نہيں ديکھی۔‘‘ وزير کے بقول اب انہيں چانسلر ميرکل کا پيغام ان جگہوں تک پہنچانا ہے، جہاں سب سے زيادہ خوف پايا جاتا ہے۔

دوسری جانب پارٹی کے رہنماؤں کا اعتماد حاصل کرنے کے ليے ميرکل نے جرمنی آنے والے مہاجرين کی تعداد ميں کمی لانے کی يقين دہانی کرائی ہے۔ ميرکل اپنے ايسے ارادوں کو پايہ تکميل تک پہنچانے کے ليے درميانے اور طويل مدت کے منصوبوں پر دارومدار کيے ہوئے ہيں، جن ميں ترک وطن کا سبب بننے والے مسلح تنازعات کی بنيادی وجوہات کا حل تلاش کرنا، مہاجرين کی يورپی ملکوں ميں تقسيم، ترکی کے ساتھ اضافی تعاون اور متعلقہ ملکوں کی مالی امداد شامل ہيں۔

ڈيئر اشپيگل کے مطابق ان اہداف تک پہنچنے ميں کئی مہينے يا سال تک لگ سکتے ہيں اور پارٹی کانگريس ميں شريک ناقدين چانسلر کو اتنا وقت نہيں ديں گے۔