1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انگولا کے ساتھ عسکری ڈیل، میرکل تنقید کی زد میں

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے دورہ افریقہ کے دوران قدرتی وسائل سے مالا مال ملک انگولا کوآبی سرحدوں کی نگرانی کے لیے کشیاں فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم برلن میں اس ڈیل کے خلاف پارلیمانی بحث شروع ہو گئی ہے۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بدھ کے دن دورہ انگولا کے دوران اعلان کیا کہ برلن حکومت انگولا کو چھ تا آٹھ ایسی کشیاں فروخت کرنے پر تیار ہے، جو سمندری سرحدوں کی نگرانی کا کام کریں گی۔ دونوں ممالک کے مابین یہ مجوزہ ڈیل بین الاقوامی تعاون کے ایک معاہدے کے تحت ہو گی۔ تیل کے وسائل سے مالا مال افریقی ملک انگولا میں اپنے قیام کے دوران جرمن چانسلر نے کہا،’ جرمنی انگولا کے ساتھ توانائی اور خام مال کی پارٹنر شپ کے لیے تیار ہے‘۔

جرمن چانسلرانگیلا میرکل کے بقول انگولا کو پیٹرول بوٹس کی فروخت سے لوآنڈا حکومت اپنی آبی سرحدوں کی نگرانی کو بہتر بنا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ انگولا کی سرحدوں کی بہتر نگرانی کے نتیجے میں علاقائی امن کو بھی استحکام ملے گا۔ اس دوران انگیلا میرکل نے انگولا حکومت کو ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے مختلف منصوبہ جات میں مدد فراہم کرنے کے علاوہ زراعت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی تعاون کی پیشکش کی۔

NO FLASH Merkel will Marineboote an Angola verkaufen

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور انگولا کے صدر Jose Eduardo dos Santos

دوسری طرف جرمنی میں انگیلا میرکل کی طرف سے انگولا کو عسکری مدد فراہم کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اگرچہ انگولا کو پیٹرول بوٹس کے منصوبے کو حکومتی اجازت ملک چکی ہے تاہم اپوزیشن گرین پارٹی کی سربراہ کلاؤڈیا روتھ نے میرکل کے اس فیصلے کو ایک ’برا اقدام‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی حال ہی میں برلن حکومت سعودی عرب کو ٹینک فروخت کرنے کی متنازعہ ڈیل کر چکی ہے اوراب اس کے بعد انگولا کو گشتی کشیاں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اپوزیشن کی ایک اور جماعت ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے Rolf Muetzenich کے بقول انگولا میں جمہوریت مضبوط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں صدر اور ان کے ساتھیوں پر بد عنوانی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل بدھ کے شب انگولا کا دورہ مکمل کرکے نائجیریا پہنچ چکی ہیں۔ دورہ افریقہ کے دوران ابوجہ ان کی آخری منزل ہے، جس کے بعد وہ وطن واپس لوٹ آئیں گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس