1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

انگولا حملے کے بعد، عالمی کپ فٹ بال اور خدشات

فٹ بال کے عالمی کپ میں اب صرف پانچ ماہ رہ گئے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عالمی کپ براعظم افریقہ میں منقعد ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں افریقی ملک ٹوگو کی ٹیم پر حملے کے بعد ، حفاظتی انتظامات کے حوالے سے ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

default

ٹوگو کی ٹیم افریقن نیشنز کپ میں شرکت سے دستبردار ہو گئی ہے

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے افریقہ کپ کو ملتوی کرنے کی درخواست کو رد کرتے ہوئے کہا کہ فٹ بال ہر قسم کے حملے سے زیادہ طاقت ور ہے۔ اسی وجہ سے یہ ٹورنامنٹ جاری رہے گا۔ ساتھ ہی فیفا نے ان خدشات کو مسترد کر دیا ہے کہ انگولا میں ہونے والی کارروائی کا جنوبی افریقہ میں ہونےوالے عالمی کپ پر اثر پڑے گا۔

Togo Mannschaftsbus nach Anschlag eskortiert

حکام نے اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں دو افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے

انگولا اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ فیفا کے مطابق یہ تو ایسا ہے کہ چیک ریپبلک میں ہونے والے کسی واقعے کو برطانیہ سے جوڑنے کی کوشش کی جائے۔ تاہم مختلف ذرائع ابلاغ انگولا میں ہونے والے واقعے کا جنوبی افریقہ سے تعلق جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے وزیر اسپورٹس نے کہا ہے کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔’’انگولا کے سیاسی تنازعات کا جنوبی افریقہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ فٹ بال کے عالمی کپ کے دوران سیکیورٹی انتظامات اتنے سخت کئے گئے ہیں کہ کسی کو بھی اتنی جرات نہیں ہوگی کہ دخل اندازی کر سکے۔ ‘‘

دوسری جانب افریقی ملک انگولا کے حکام نے ٹوگو فٹ بال ٹیم پر جمعے کے روز ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان افراد کو شمالی صوبے کبینڈا سے حراست میں لیا گیا۔ اس حملے میں ٹیم کے دو آفیشلز اور بس ڈرائیور ہلاک ہوگئے تھے۔ حملے کے بعد ٹوگو کی ٹیم وطن واپس لوٹ گئی تھی اور اس نے ان مقابلوں میں شریک نہ ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM