1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

انگلینڈ کا دورہ: عمر اکمل اور احمد شہزاد ٹیم سے باہر

پاکستان نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کرنے کی بنیاد پر عمل اکمل اور احمد شہزاد کو قومی کرکٹ ٹیم سے ڈراپ کر دیا ہے۔ چیف سلیکٹر انضمام الحق کے مطابق یہ فیصلہ سابق کوچ وقار یونس کی رپورٹ پڑھنے کے بعد کیا گیا ہے۔

پاکستانی قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق کے مطابق ٹیم کے آئندہ دورہء انگلینڈ کے لیے عمر اکمل اور احمد شہزاد کو ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا سابق کوچ واقر یونس کی ان سے متعلق رپورٹ پڑھنے اور قومی ٹیم کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

اتوار کے روز اختتام پذیر ہونے والے پاکستان کپ میں اوپننگ بلے باز شہزاد سب سے زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑی تھے اور انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین نصف سینچریوں اور ایک سینچری کی مدد سے تین سو بہتر رنز بنائے تھے۔ انہوں نے ہی خیبر پختونخوا کو ڈومیسٹک ون ڈے ٹورنامنٹ جیتنے میں مدد فراہم کی ہے۔

لیکن انضمام الحق کا کہنا تھا کہ ٹیم میں نظم و ضبط کے لیے ’’سخت فیصلے‘‘ کرنا ہوں گے، ’’یہ پاکستان کپ میں کارکردگی کی بات نہیں ہے۔ ہمیں نظم و ضبط کا پابند ہونا ہوگا اور اس کے لیے چند سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔‘‘

انضمام الحق سے پہلے ان کی جگہ ہارون رشید نے لے رکھی تھی لیکن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں چار میں سے صرف ایک میچ جیتنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیکشن کمیٹی میں بہتری لانے کا فیصلہ کیا تھا اور ہارون رشید کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں خراب کارکردگی کے باعث کوچ وقار یونس بھی مستعفی ہو گئے تھے لیکن انہوں نے اپنی رپورٹ میں شہزاد اور اکمل پر شدید تنقید کی تھی۔

انضمام الحق نے کھلاڑیوں کے ایک پینتیس رکنی اسکواڈ اک اعلان کیا ہے اور ان کی فٹنس کا جائزہ آئندہ ہفتے لاہور میں کیا لیا جائے گا اور اس کے بعد دورہ انگلینڈ کے لیے حتمی کھلاڑیوں کا چناؤ ابیٹ آباد میں لگنے والے ایک تین ہفتے کے ٹریننگ کیمپ کے بعد ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق محمد حفیظ، حارث سہیل، فاسٹ باؤلر راحت علی اور کئی دیگر کھلاڑیوں کا فٹنس مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اسی طرح ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں شاہد آفریدی اور تیز باؤلر محمد عرفان کو بھی شامل نہیں کیا جائے گا۔ انضمام الحق کے مطابق وہ اس مختصر ترین فارمیٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کو ترجیح دیں گے۔

ملتے جلتے مندرجات