1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

انگلینڈ سیمی فائنل میں، میزبان ٹورنامنٹ سے باہر

چیمپیئنز ٹرافی میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے میزبان ٹیم جنوبی افریقہ کو 22 رنز سے شکست دے کر نہ صرف سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرلی بلکہ جنوبی افریقہ کو ٹورنامنٹ سے باہر بھی کردیا۔

default

کپتان گریم سمتھ اپنے کیریر کی شاندار سنچری سکور کرنے کے باوجود جنوبی افریقہ کو فتح دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکے

کپتان گریم سمتھ اپنے کیریر کی شاندار سنچری سکور کرنے کے باوجود جنوبی افریقہ کو فتح دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔گروپ بی کے اس اہم میچ میں انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 323 رنز بنائے۔ جواب میں جنوبی افریقی ٹیم نے نو وکٹوں کے نقصان پر 301 رنز بنائے۔

انگلینڈ کے بلے بازوں نے میزبان ملک کی ٹیم کے بولرز کے خلاف جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی۔ اویس شاہ اور مورگن نے مل کر گیارہ چھکے لگائے۔ انگلینڈ کی جانب سے اویس شاہ، مورگن اور کولنگ ووڈ کی شاندار اننگز کی وجہ سے انگلش ٹیم 300 سے زائد کا سکور بنانے میں کامیاب ہوئی۔

England vs India Twenty20 World Cup cricket match

جونبی افریقہ کو شکست دینے کے بعد انگلش ٹیم ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کر گئی ہے

جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے عمدہ پلاننگ سے اننگز کا آغاز ضرور کیا مگر ایک بڑے سکور کا پریشر وہ سنبھال نہیں سکے۔ کپتان گریم سمتھ نے 141 رنز کی اننگز کھیلی مگر کوئی بھی بیٹسمین ان کا ساتھ دینے کے لئے کریز پر جم نہیں سکا۔ انگینڈ کی جانب سے جیمز اینڈرسن اور براڈ نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔

چیمپیئنز ٹرافی کی ہاٹ فیورٹ ٹیم جنوبی افریقہ کو ہی تصور کیا جا رہا تھا لیکن دو میچوں میں شکست کے بعد یہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے۔

نیوزی لینڈ سے ہارنے کے بعد گروب بی میں اب سری لنکا کی ٹیم بھی ٹورنامنٹ سے باہر جانے کے دہانے پر ہے۔نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے میچ پر سارا دارو مدار ہے کہ اس گروپ سے انگلینڈ کے ساتھ کون سی دوسری ٹیم سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کرے گی۔ نیوزی لینڈ کی جیت کی صورت میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ سیمی فائنل میں پہنچیں گے اور اس میچ میں انگلینڈ جیتا تو سری لنکا سیمی فائنل میں آجائے گا۔

گروپ اے میں آسٹریلیا اور بھارت کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ آسٹریلیا کی ٹیم اگر کامیاب ہوتی ہے تو بھارت بھی ٹورنامنٹ سے باہر ہو سکتا ہے۔

رپورٹ : گوہر نذیر

ادارت : عاطف توقیر