1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انڈیا میں موبائل ایپس سے معذور افراد کی زندگیوں میں رنگ

بھارت میں معذور افراد کو موبائل فون ایپلیکیشنز اور چیٹ گروپس کے ذریعے روز مرہ زندگی کے حوالے سے موثر مشورے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ موبائل ایپس معاشرے کے ان نظرانداز کیے افراد کی زندگی میں محبت و مسرت لے کر آئی ہیں۔

انڈیا میں معذور افراد کی شادیوں کے لیے بنائی گئی ایک ایپ کے ذریعے اب تک نصف درجن کے قریب شادیاں انجام پا چکی ہیں۔ اسی طرح ایسی معذور خواتین کے لیے بھی ایک واٹس ایپ گروپ بنایا گیا ہے جن کو مصنوعی ٹانگ لگوانی پڑتی ہے۔ اس واٹس ایپ گروپ کے ذریعے آپسی رشتوں سے لے کر جوتوں کے انتخاب تک ہر موضوع پر بات کی جاتی ہے۔

'انکلیوسِیو لَو‘ نامی میچ میکنگ ایپ بنانے والی چوبیس سالہ خاتون کلیانی کھنا کا کہنا ہے،’’ کم از کم دو تہائی معذور افراد نہ چاہتے ہوئے بھی اکیلے ہی زندگی گزار رہے ہیں۔ شادی کی غرض سے ملاقات طے کرانے والی ویب سائٹیں معذور افراد کو شامل نہیں کرتیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اکیلے رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ بھارت میں معذور افراد کی تعداد قریب ستائیس ملین ہے۔ معاشرے کے ان افراد کو بظاہر بڑے پیمانے پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انڈیا میں اپاہج افراد کو عمومی طور پر نہ تو پبلک ٹرانسپورٹ تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی یہ ریستورانوں اور سینما گھروں میں جانے کی ہمت پڑتی ہے۔

اس حوالے سے معذور خواتین، مردوں کی نسبت زیادہ دشوار زندگی گزارتی ہیں۔ ایسی خواتین کو اُن کے خاندانوں کی جانب سے اس لیے بوجھ سمجھتے ہیں کیونکہ ان کی شادیاں آسانی سے نہیں ہو سکتیں۔ ’انکلیوسِو لَو‘ کے اب انڈیا میں انیس ہزار رجسٹرڈ صارفین ہیں جن میں اسّی فیصد تعداد مرد حضرات کی ہے۔

اسی طرح مصنوعی ٹانگوں کی حامل پندرہ خواتین نے ایک نجی واٹس ایپ گروپ بنا رکھا ہے۔ اس گروپ میں شامل خواتین نجی معاملات سے لے کر جوتوں کے ڈیزائن بارے بھی اپنے تجربات سے دوسری خواتین کو آگاہی فراہم آگاہ کرتی ہیں۔

یہ واٹس ایپ گروپ ممبئی کی تین خواتین نے بنایا ہے جو خود بھی ٹانگوں کی معذوری کا شکار ہیں۔ گروپ میں شامل پچیس سالہ انتارا تیلانگ مون سون کی طوفانی بارشوں میں درخت گرنے سے ٹانگ سے معذور ہو گئی تھیں۔

تیلانگ کا کہنا ہے،’’ یہ صرف ہماری معذوری کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس گروپ کے ذریعے ہم ہر چیلنج کے حوالے سے سے ایک دوسرے کی ہمت بندھاتے ہیں۔‘‘

DW.COM