1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

انڈیا میں سڑکوں کی تعمیر میں پلاسٹک کا استعمال

بھارت میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت کو چاہیے کہ محفوظ اور سستے داموں شاہراہوں کی تعمیر کے لیے ملکی ٹیکنالوجی کے ذریعے ضائع شدہ پلاسٹک کا استعمال کرے۔

بھارت دنیا میں سڑکوں کا سب سے بڑا نیٹ ورک رکھنے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے اور یہاں عالمی سطح پر حادثات کی شرح بھی زیادہ ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ برس بھارتی سڑکوں پر پانچ لاکھ حادثات ہوئے جن میں ڈیڑھ لاکھ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ ان ہلاکتوں میں سے دس فیصد کا سبب وہ پگڈنڈیاں اور گڑھے تھے جو بھارتی سڑکوں پر یا ان کے آس پاس اکثر پائے جاتے ہیں۔

حال ہی میں بھارتی حکومت نے آئندہ پانچ سالوں میں چھ اعشاریہ نو ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے 83,677 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔

تجزیہ کاروں نے ملکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ سڑکوں کی تعمیر استعمال شدہ پلاسٹک کی ٹیکنالوجی سے کریں جو پہلے سے آزمودہ ہے۔ بھارت کے مادورئی شہر کے ایک کالج میں کیمسٹری کے پروفیسر راجا گوپالن وسودیون نے ایک ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔ اس نئی تکنیک کے ذریعے باریک پلاسٹک کو تارکول کی طرح کے ایک گرم ٹھوس مادے میں شامل کیا جاتا ہے اور پھر اس آمیزے کو پتھروں پر انڈیل دیا جاتا ہے۔

پروفیسر وسودیون کے مطابق یہ پلاسٹک ٹافیوں کے ریپر سے لے کر پلاسٹک کے استعمال شدہ تھیلوں تک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بھارتی پروفیسر نے یہ ٹیکنالوجی سن 2002 میں تیار کی تھی اور ریاستی حکام سے بات کرنے سے پہلے انہوں نے اس تکنیک سے اپنے کالج میں ہی ایک سڑک بھی تعمیر کی تھی۔ پوفیسر وسودیون کا کہنا ہے کہ اُن کی بنائی ہوئی سڑک اب تک مضبوط ہے اور اس میں گڑھے بھی نہیں پڑے۔ اُن کا ایک اسٹوڈنٹ یہ ٹیکنالوجی اپنے ملک بھوٹان بھی لے گیا ہے۔

سن 2015 میں بھارتی حکومت نے زیادہ تر شاہراہوں کی تعمیر میں پلاسٹک کے استعمال کو لازمی قرار دے دیا تھا۔ وسودیون کے مطابق ان کی ریاست تامل ناڈو سمیت اب تک قریب گیارہ بھارتی ریاستیں شاہراہوں کی تعمیر میں یہ ٹیکنالوجی استعمال کر چکی ہیں۔

DW.COM