1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انڈونیشیا: ہم جنس پرستوں کو دُرے مارنے کی سزا شروع

انڈونیشیا کے دو ہم جنس پرستوں کو جمعے کے روز ایک سو دُرے مارے جائیں گے۔ ان دونوں کو انڈونیشیا کے قدامت پسند اسلامی جزیرے آچے میں سیکس کرتے ہوئے پکڑ لیا گیا تھا۔ اس سزا پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔

انڈونیشیا کے آچے جزیرے پر متعدد سخت اسلامی قوانین نافذ ہیں اور ان میں سے ایک قانون ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان دو مردوں کو دی جانے والی اس سزا اور اس قانون کو ’غیرانسانی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آچے ریاست میں نافذ ’اسلامی قانون‘ کے تحت دو مردوں کا آپس میں جنسی فعل انجام دینا، یا دو خواتین کا آپس میں جنسی نوعیت کا ملاپ جرم ہے۔ اس قانون کو اطلاق اس جزیرے پر بسنے والے تمام مسلمانوں بشمول غیرملکیوں پر ہوتا ہے۔ صوبائی شریعہ سربراہ سیاہریزل عباس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں بتایا کہ ایسے ’جرائم‘ کو روکنے کے لیے یہ قانون سازی کی گئی ہے۔

Indonesien Aceh Singkil Kirche Brandanschlag verbrannt Feuer Brandstiftung Kampf Christen Muslime

اس صوبے میں چرچوں پر حملوں کے واقعات بھی دیکھے گئے ہیں

انسانی حقوق کے گروپوں کی سخت مخالفت کے باوجود یہ قواعد ریاستی سطح پر سن 2014ء میں منظور کر لیے گئے تھے، تاہم حکام نے اس سلسلے میں عوام میں آگہی پیدا کرنے اور ان قوانین کے اطلاق کے لیے ایک برس صرف کیا۔

عباس کا کہنا ہے، ’’یہ قانون انسانی عظمت کا تحفظ یقینی بناتا ہے۔ اس کا مقصد آچے میں بسنے والوں کو غیر اخلاقی حرکتوں سے باز رکھنا ہے۔ اس قانون کا نفاذ آج ہی سے ہو گا۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ انڈونیشیا میں مردوں کے درمیان جنسی تعلق جرم نہیں ہے اور اس کی وجہ انڈونیشیا کا وہ تعزیراتی قانون ہے، جو اسے نوآبادیاتی طاقت ہالینڈ سے ملا۔

مسلم آبادی کے اعتبار سے اس سب سے بڑے ملک میں آچے وہ واحد صوبہ ہے، جہاں شرعی قوانین نافذ ہیں، جس میں جوئے، شراب نوشی اور شادی کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنا جرم ہے۔

انڈونیشیا کے اس مغربی صوبے میں زنا کی سزا سو کوڑے ہے اور کسی دوسرے پر بغیر ثبوت کے زنا کا الزام لگانے والے کو بھی 80 کوڑے مارے جاتے ہیں۔

لاٹھیوں کی سزا کے لیے پتلی لاٹھی استعمال کی جاتی ہے اور ’مجرم‘ کو سرعام یہ سزا دینے سے تکلیف سے زیادہ تذلیل کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، جب کہ ایسے ملزم کو سونا دینے یا قید کی سزا بھگتنے کا متبادل بھی دیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی گروپ اس قانون کو غیرانسانی اور دستور سے ’متصادم‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔