1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

انڈونیشیا: گریا بالور کلینک میں سرطان کا علاج تمباکونوشی سے

گریا بالور کی بانی ڈاکٹر گریتھا ظہار کا کہنا ہے کہ انسانی بدن سے پارے کی موجودگی کو ختم کرنے سے صحت کا حصول ممکن ہے۔ اس مناسبت سے انہوں نے ڈیوائن سگریٹ نوشی کومتعارف کروایا ہے۔

default

مشرق بعید کے ملک انڈونیشیا کی ڈاکٹر گریتھا ظہار نے نینوکیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ڈاکٹر ظہار نے یہ ڈگری بنڈونگ کی Padjadjaran یونیورسٹی سے حاصل کی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں انہوں نے دنیا بھر سے ساٹھ ہزار مریضوں کا علاج اس انداز میں کامیابی سے کیا ہے۔

BdT Deutschland Rauchverbot Wasserpfeife in Ludwigsburg

سگریٹ نوشی کو گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب خیال کیا جاتا ہے

ان کے کلینک گریا بالور تک مغربی ملکوں سے بھی مریض پہنچتے ہیں۔ گریا بالور کلینک پہلے کئی ملکوں میں کام کرتا تھا۔ اب یہ کئی ملکوں میں پابندی کا شکار ہو چکا ہے۔ انڈونیشیا میں اب بھی یہ فعال ہے۔ اس کلینک میں کئی اقسام کے کینسر کا علاج تمباکو نوشی سے کیا جاتا ہے۔

اس کلینک کی بانی ڈاکٹر گریتھا ظہار کا کہنا ہے کہ انسانی بدن کے اندر مختلف کیفیتوں اور انداز سے پہنچنے والا مرکری یا پارہ انتہائی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔ جسم کے اندر مرکری کا روکنا بےحد ضروری ہے۔ اس کے روکنے سے انتہائی مفید اثرات انسانی صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ظہار کے مطابق پارے کو کنٹرول کرنے سے ڈھلتی عمر کا عمل بھی روکا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے سگریٹوں سے اب تک ہزاروں افراد کا کامیاب علاج کر چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے سگریٹوں کو ڈیوائن سگریٹ یا آلوہی سگریٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مرکری یا پارے کو تمام بیماریوں کی جڑ قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر گریتھا ظہار نے اپنی ویب سائٹ پر حال ہی میں لکھا ہے کہ وہ اپنے نظریات کی بین الاقوامی طبی لیبارٹریز سے تصدیق ضروری خیال نہیں کرتی۔ ان کے مطابق وہ اپنے نظریات کو طباعت کے عمل سے بھی سردست دور رکھنا چاہتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے پاس سرمائے کی بھی کمی ہے اور اس باعث وہ مغربی سائنسدانوں کے ساتھ کسی تقابلی مہم جوئی کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔

Spanien Rauchverbot Schild Rauchen Verboten

سگریٹ نوشی کی ممانعت کے واضح نشان یورپ میں لگائے گئے ہیں

ڈاکٹر ظہار کا خیال ہے کہ انسانی جسم میں پارے کی مختلف انداز میں موجودگی بہت ساری بیماریوں کا سبب بنتی ہے اور ان کے سگریٹ انسانی جسم سے پارے کی موجودگی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر ظہار کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ڈیوائن سگریٹ میں نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہیں اور ان کے سگریٹ کے کش سے انسانی بدن میں موجود پارے کے اجزاء کو دھوئیں کے اخراج سے باہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔

انڈونیشیا میں تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلانے والوں کا خیال ہے کہ گریا بالور جیسے کلینک تمباکو نوشی پر پابندی کی راہ میں حائل ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے حکومت کو اربوں ڈالر کی کمائی سگریٹوں کی فروخت سے ہو رہی ہے۔

ان دنوں ڈاکٹر ظہار کو اپنے طریقہٴ علاج کے سلسلے میں انڈونیشیا کی دستوری عدالت کا سامنا ہے۔ دستوری عدالت میں کسانوں اور اراکین پارلیمنٹ نے ایک اپیل دائر کی ہے کہ تمباکو سے نشے کی عادت پختہ ہوتی ہے لہذا اس سلے میں تادیبی کارروائی کی اجازت دی جائے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس