1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انڈونیشیا کے ’فری لانس دہشت گرد‘، ایک نیا خطرہ

ایک نئی سوشل ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ انڈونیشیا کی جیلیں عمومی طور پر دہشت گردوں کے لیے ایک تربیت گاہ سے کم نہیں ہیں اور دوران قید دہشت گردوں کے انتہا پسندانہ اور متشدد اعتقادات ختم نہیں ہو پاتے۔

default

اس رپورٹ میں انڈونیشیا کے ’فری لانس دہشت گردوں‘ سے خبردار کیا گیا ہے۔ جیلوں میں قید جہادی افراد کے رویوں اوران کے تاثرات پر مبنی یہ سماجی ریسرچ رپورٹ آسٹریلین اسٹریٹیجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ اس مطالعے میں 33 ایسے افراد کا انٹرویو کیا گیا ہے، جنہیں انڈونیشیا کی عدالتوں نے دہشت گردی کے الزامات کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان مجرمان کا انڈونیشیا کی مختلف چار جیلوں میں انٹرویو کیا گیا۔ اس رپورٹ میں جمیعہ اسلامیہ نیٹ ورک کے کئی سابق اعلیٰ اہلکاروں کے علاوہ KOMPAK اورRing Banten جیسے گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے بھی انٹرویو کیے گئے۔

اس رپورٹ کے مرتب کرنے والے اور آسٹریلوی خفیہ ادارے کے سابق اہلکار ڈاکٹر Carl Ungerer نے اے بی سی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جہادیوں کا ایک گروہ اپنی سزائیں پوری کرنے کے بعد آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف جیلوں سے رہا ہونے والا ہے۔ ان میں سے کئی ایک نے کہا ہے کہ وہ رہا ہونے کے بعد مغربی اہداف کو بم حملوں کا نشانہ بنائیں گے،’ جن افراد کو ہم نے انٹرویو کیا، ان میں سے بعض نے کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر وہ آج آزاد ہوتا ہے تو وہ اگلے روز ہی امریکی سفارت خانے کو بم سے نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا‘۔

NO FLASH Indonesien Abu Bakar Bashir

انڈونیشیا کے انتہاپسند مسلمانوں کے رہنما ابوبکر بشیر

اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران انڈونیشیا میں دہشت گردی کے شبے میں کم ازکم 600 افراد کو مختلف دہشت گردانہ الزامات کے تحت سزا سنائی گئی۔ کئی افراد رہا ہونے کے بعد دوبارہ کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تاہم کئی ایک ایسے بھی ہیں، جنہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔

ڈاکٹر کارل اُنگیرر نے انتہا پسندی کو ایک حقیقی مسئلہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا انڈونیشیا کی حکومت نے ماضی میں گرفتار کیے گئے دہشت گردوں سے کوئی سبق سیکھا ہے یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کی جیلوں میں قید خطرناک دہشت گرد دیگر قیدیوں کے ساتھ ملتے ملاتے رہتے ہیں اور ان کو کسی مخصوص جگہ نہیں رکھا جاتا۔ جس کے نتیجے میں ان مجرمان کا جیل کے اندر ہی دوسرے نیٹ ورکس کے ساتھ ایک تعلق بن جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جیلوں میں قید مجرمان اپنی سزا کے دوران ہی اپنی ماضی کی کارروائیوں پر غور کرتے رہتے ہیں اور مستقبل میں بہتر حکمت عملی ترتیب دینے پر صلاح مشورہ بھی جاری رکھتے ہیں۔

اس خصوصی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیلوں میں قائم مساجد ایسی جگہیں ہیں، جہاں یہ انتہا پسند افراد عبادات کی ادائیگی کے دوران اپنے کٹر نظریات کے پھیلاؤ کی کوششوں سے دوسرے نئے قیدیوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کارل کے مطابق ان میں سے زیادہ تر مجرمان کا کسی نیٹ ورک سے تعلق نہیں ہے بلکہ وہ خود کو فری لانس دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس