1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انڈونیشیا کی وزیر برائے امور خواتین کا دورہ سعودی عرب

انڈونیشیا کے وزیر خارجہ کے مطابق دورےکا مقصدسعودی عرب میں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک گھریلو ملازمہ پرہونے والے بہیمانہ تشدد کے سلسلے میں جاری تفتیش کا جائزہ لینا ہے۔

default

انڈونیشا کی امور خواتین کی وزیر لِنڈا آگُم گومیلر بعض دیگر وزرا کے ایک وفد کی قیادت کر رہی ہیں۔ اس دورے کا مقصد سعودی عرب میں ایک 23 سالہ ملازمہ سومیاتی بنتی سالان کو انصاف دلانےکے علاوہ کام کی تلاش میں خلیجی ممالک آنے والی خواتین پر تشدد جیسے واقعات کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے۔

گومیلر اپنے دورے کے دوران مدینہ منورہ کے ایک اسپتال میں آٹھ نومبرسے زیرعلاج سومیاتی کی عیادت بھی کریں گی۔ سومیاتی کو چہرے اور ہونٹوں پر ممکنہ طور پرقینچی سے لگائے گئےگہرے زخموں کے باعث شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ممالک میں مقیم غیر ملکی گھریلو ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئےمزید اقدامات کریں۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کے صدر کی جانب سے تشدد کوغیر معمولی قرار دیئے جانے والے اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی حالت زار کس قدر دگرگوں ہے۔

AI Irene Khan Weltsozialforum in Bombay

ایمنسٹی انٹرنیشنل دنیا بھر میں خواتین کے تحفظ کے لیے کام کررہی ہے

ایمنسٹی انڑنیشنل کے ڈائریکٹر برائے خلیجی ممالک اور شمالی افریقہ، میلکم سمارٹ کا کہنا ہےکہ ایسی خواتین جوگلف یا سعودی عرب میں گھریلو ملازمتیں کر رہی ہیں ان میں سے اکثر کا نہ صرف استحصال کیا جاتا ہے بلکہ جسمانی تشددکا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ میلکم سمارٹ اس صورتحال کو غیرملکی گھریلو ملازم خواتین کے حقوق کے تحفظ میں ان ممالک کی ناکامی ٹہراتے ہیں۔ وہ مزیدکہتے ہیں، " انڈیا، پاکستان، انڈونیشیا اور سری لنکا وغیرہ سےآنے والےملازموں نے ان خلیجی ممالک کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے بہت کام کیا ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائےکہ ان کے ساتھ معمالات کو اب دیانتداری اور خوش اسلوبی سے نمٹایا جائے۔"

انڈونیشیا میں متعین سعودی سفارت کار کے مطابق گھریلو ملازمہ پر بہیمانہ تشدد کے اس واقعے کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، مگر اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ تاہم انہوں نے اس بات کو یکسر مسترد کر دیا کہ ان کے ملک میں استحصال اور تشدد کے ایسے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس