1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انڈونیشیا: نوجوان جوڑے کو بیت کی چھڑی سے مارنے کی سزا

انڈونیشی صوبے آچے میں شرعی قوانین کے تحت کم از کم بیس افراد کو بیت کی چھڑی سے مارنے کی سزا دی گئی۔ ان افراد کو آچے صوبے کے مرکزی شہر میں کئی ہزار لوگوں کے سامنےبیت سے مارنے کی سزا دی گئی۔

آچے صوبے میں جس ایک نوجوان جوڑے کو بیت مارے گئے، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے شادی کرنے سے قبل تنہائی میں ملاقات کی تھی۔ آچے میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے بعد غیر شادی شدہ جوڑے تنہائی میں ملاقات نہیں کر سکتے اور ایسا کرنا ایک جرم قرار دیا جا چکا ہے۔ اِس نوجوان جوڑے میں شامل مرد کی عمر اکیس برس اور لڑکی انیس سال کی تھی۔ انہیں تنہائی میں ملاقات کرنے پر دس دس بیت (بید) مارے گئے۔

کھلے عام شرعی سزا دینے کے اِس سلسلے میں چھ ملزمان کو شراب پینے کے جرم میں عدالت نے 40 بیت مارنے کی سزا سنا رکھی تھی اور اِس پر بھی عمل کیا گیا۔ ان کے علاوہ ایسے 10 افراد کو جوا کھیلنے کے جرم میں 40 بیت کی چھڑیاں ماری گئیں۔

انڈونیشی صوبے آچے کے دارالحکومت بندا آچے میں اِس سزا کو ہزاروں افراد نے دیکھا۔ ان میں شہر کے ناظم ایلیزا صداالدین جمال کے ہمراہ صوبائی سرکاری ملازمین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

انتارا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سزاؤں پر عمل درآمد کے بعد بندا آچے کے ناظم ایلیزا صداالدین جمال کا کہنا ہے، ’’ یہ سزا جرائم کی حوصلہ شکنی کا ایک ذریعہ ہے اور جن لوگوں نے اِس سزا کے عمل کو دیکھا ہے، وہ یقینی طور ایسا جرم کرنے سے اجتناب کریں گے۔‘‘

انڈونیشیا کے اس صوبے نے سن 2014 میں اسلامی قانون کا نفاذ کیا تھا۔ ان قوانین کے تحت شادی کے بغیر جنسی روابط استوار کرنا، مختلف جنسی رجحانات اور رویے رکھنے والے، شراب پینے، جوا کھیلنے اور غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کے تنہائی میں ملنے پر پابندی عائد ہے۔ اس قانون کے تحت ناجائز جنسی تعلقات رکھنے پر 100 بیت کی چھڑیاں مارنے کے ساتھ ساتھ 100 مہینے جیل کی سزا دی جا سکتی ہے۔

آچے انڈونیشیا کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں اسلامی شرعی قوانین کا نفاذ کیا جا چکا ہے۔ یہ قوانین جکارتہ حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے پانے کے بعد متعارف کروائے گئے تھے۔ آچے صوبے کے اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ انڈونیشی حکومت نے سن 2005 میں ایک امن ڈیل کو حتمی شکل دی تھی۔ اس معاہدے سے شدت پسندوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا اور مسلح تنازعے کا بھی اختتام ہو گیا تھا۔ اِس پرتشدد تنازعے میں 15000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔