1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انڈونیشیا میں ہولناک زلزلہ، 4,600 سے زیادہ انسان ہلاک

27 مئی ہفتے کے روز انڈونیشیا کے مقامی وقت کے صبح چَھ بجے ایک ہولناک زلزلے نے مرکزی جزیرے جاوا کو ہِلا کر رکھ دیا۔ رِکٹر اسکیل پر 6.2 قوت کے اِس طاقتور زلزلے میں 4,600 سے زیادہ انسان موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ دو لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

default

زلزلے کے فوراً بعد ہزاروں خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں نکلے اور اُن میں سے زیادہ تر بلند مقامات کی طرف بھاگے کیونکہ فوراً ہی یہ افواہیں گردِش کرنے لگی تھیں کہ اِس زلزلے کے باعث اُسی طرح کی سُونامی لہریں پیدا ہوئی ہیں، جنہوں نے دسمبر سن 2004ء میں ملک میں تباہی مچا دی تھی۔

تاہم بہت سے لوگ اپنی جانیں نہ بچا سکے اور جاوا کے جنوبی علاقوں کے کئی ایک قصبوں اور دیہات میں تباہ ہونے والے ہزاروں مکانات کے ملبے تلے دَب کر ہلاک یا زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں کی تازہ تعداد 4,600 سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دَس تا بیس ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اِس زلزلے سے متاثرہ شہر یوگ یکارتہ کے ہسپتال مرنے والوں کی لاشوں اور زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہسپتالوں کے باہر طبی امداد کے منتظر ہیں۔

ہنگامی امداد فراہم کرنے والی ٹیمیں اور طبی عملہ شدید طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ امدادی تنظیمیں بے گھر ہو جانے والوں کے لئے خیمے اور خوراک روانہ کر رہی ہیں جبکہ خون کے عطیات کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

دریں اثناء انڈونیشی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے مدد کی اپیل کر دی ہے۔ وفاقی جرمن حکومت نے فوری امداد کے طور پر پانچ لاکھ یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

زلزلے کے فوراً بعد یوگ یکارتہ میں موجود فری لانس جرمن صحافی Susanne Kröber نے ڈوئچے وَیلے کے ساتھ گفتگو میں آنکھوں دیکھا حال بتایا کہ زخمی ہسپتالوں کی راہداریوں میں، استقبالیہ ہالز میں، اور کار پارکوں میں، ننگی زمین پر بیٹھے اور لیٹے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں زخمیوں کے لواحقین کو خود ہی اپنے زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے کے لئے سامان دیا جا رہا ہے اور یہ کہ ایک ہولناک آفت کی سی صورتِ حال ہے۔ تمام تر دستیاب طبی عملے کو ڈیوٹی پر بلا لیا گیا ہے لیکن پھر بھی حالات اُن کے بس سے باہر دکھائی دیتے ہیں۔

زلزلے سے کئی سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے، جس کی وجہ سے موٹر گاڑیوں کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتالوں تک نہ پہنچایا جا سکا۔ ایک جرمن سیاح نے جرمن ٹی وی چینل ZDF کو اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ زلزلہ صبح چَھ بجے آنا شروع ہوا، وہ جاگا کیونکہ دیواریں ہِل رہی تھیں۔ شیلف وغیرہ میں رکھی چیزیں فرش پر گر رہی تھیں۔ جتنی جلدی ہو سکتا تھا، وہ نکل کر باہر بھاگا، جہاں مقامی باشندے اور دوسرے سیاح بھی جمع تھے۔ اُس نے بتایا کہ اُس کے خیال میں زمین مزید کوئی بیس سیکنڈ تک ہِلتی رہی۔

بڑے زلزلے کے بعد بھی وقفے وقفے سے زلزلے کے کئی جھٹکے محسوس کئے جاتے رہے، جس سے لوگوں میں خوف و ہِراس بڑھ گیا ہے اور بہت سے لوگ یوگ یکارتہ اور سب سے متاثرہ شہر Bantul چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ یہ ڈرے ہوئے لوگ اپنے گھروں میں بھی نہیں جانا چاہتے کیونکہ حکام نے اُن کے گھروں کو غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔

ایک بار پھر انسانی بے بسی کی کہانیاں منظرِ عام پر آ رہی ہیں۔ سڑک کے کنارے اپنی بیوی کی لاش پر روتے ہوئے ایک 70 سالہ شخص کا کہنا تھا کہ اُس نے اپنے بچوں کو تو باہر نکال لیا لیکن بیوی ابھی اندر ہی تھی کہ مکان کی چھت گر گئی۔

متاثرہ علاقوں سے اپنی پہلی رپورٹ میں بین الاقوامی ریڈ کراس کے لطیف الرحمان نے بتایا کہ ایسے بھی علاقے ہیں، جہاں 80 فیصد تک مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں۔ پانی اور بجلی کی فراہمی کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ رَن وے میں دراڑیں پڑنے کی وجہ سے یوگ یکارتہ کا ہوائی اڈہ بند کیا جا چکا ہے۔

جرمنی سمیت بہت سے ممالک نے انڈونیشیا کے اِس سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امداد کی پیشکش کی ہے جبکہ امدادی تنظیموں نے عوام سے عطیات دینے کی اپیل کی ہے۔

اِسی دوران ہنگامی امدادی ٹیمیں اور طبی عملہ شدید طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچنا شروع ہو گیا ہے جبکہ بے گھر ہو جانے والے کوئی دو لاکھ انسانوں کے لئے خیمے، خوراک اور ادویات بھی روانہ کی جا رہی ہیں۔

اِس زلزلے کا مرکز بڑے شہر یوگ یکارتہ سے کوئی 37 کلومیٹر دور سمندر میں واقع تھا اور اِسی وجہ سے سُونامی لہروں کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ تاہم حقیقت میں ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ جاوا جزیرے کا شہر یوگ یکارتہ، جو اپنے قدیم عبادت خانوں کی وجہ سے ثقافتی گہوارہ تصور کیا جاتا ہے، گذشتہ کئی ہفتوں سے خبروں کا موضوع بنا ہوا تھا۔ وہ اِس لئے کہ اِس کے قریب ہی واقع آتِش فشاں پہاڑ Merapi کے اندر لاوے کی سرگرمی میں بے حد اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کا براہِ راست تعلق آتِش فشاں پہاڑ سے نہیں بلکہ اُن زمینی پلیٹوں کی حرکت سے تھا، جن کے خطرناک سنگم پر یہ شہر یوگ یکارتہ واقع ہے۔ انڈونیشیا کے صدر سُسیلو بمبانگ یُدھو یونو نے امدادی ٹیموں کی مدد کے لئے فوج روانہ کر دی ہے اور خود بھی متاثرہ علاقوں میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انڈونیشی صدر یُدھو بونو نے کہا کہ زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جن کی اِس وقت ہسپتالوں میں دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور وہ زلزلے کے تمام متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ یقین دلاتے ہیں کہ متاثرین کی مدد کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔