1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انڈونیشیا میں سگریٹ نوشی کے خلاف تحریک

جکارتہ میں ماہرین صحت نے میوزک گروپوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انڈونیشیا میں اس ویک اینڈ پر سگریٹ بنانے والی ایک کمپنی کے سپانسر کردہ میوزک فیسٹیول میں حصہ نہ لیں۔

default

ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میوزک فیسٹیول میں حصہ لینے والے برطانیہ، آسٹریلیا، جرمنی، جاپان اور امریکی گروپ انڈونیشیا میں بچوں میں تمباکو نوشی کو فروغ دینے کا باعث بنیں گے۔

انڈونیشیا کی تمباکو نوشی کے خلاف قومی کمیٹی کی سیکریٹری جنرل سہردی کے مطابق یہ فیسٹیول تمباکو نوشی میں اضافے کا باعث بنے گا، بالخصوص نوجوانوں میں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ہی پتا ہے کہ اس قسم کے میوزک فیسٹیول نوجوانوں کو تمباکو نوشی کی طرف مائل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہ بات بھی سب کے علم میں ہے کہ سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے اشتہارات بڑھتی ہوئی تمباکو نوشی کا ایک بڑا سبب ہیں۔

انڈونیشیا سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے لئے ایک بہت آسان اور مثبت مارکیٹ ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی فروخت بڑھانے میں لگی ہیں اور مغرب کی روایتی تمباکو نوش مارکیٹ میں گرتے ہوئے استعمال کی کمی بھی پوری کر رہی ہیں۔

حکومت ان سگریٹ کمپنیوں سے سالانہ ٹیکسوں کی مد میں اربوں ڈالر لیتی ہے اور ان کمپنیوں نے بے شمار لوگوں کو نوکریاں بھی دی ہوئی ہیں۔

Frau mit Eis und Zigarette in Italien

سگریٹ لائف ستائل کا حصہ بنتا جا رہا ہے

عالمی ادراہ برائے صحت کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں سگریٹ کا استعمال 1990 کی دہائی میں 47 فیصد تک بڑھ گیا تھا۔ اکثریتی سگریٹ برانڈز کے ایک پیکٹ جس میں 20 سگریٹ ہوتے ہیں،کی قیمت ایک ڈالر تک ہوتی ہے مگر پھر بھی ملک کے غریب ترین گھرانوں میں کھانے کی اشیا کے بعد سگریٹ ہی سب سے زیادہ استعمال ہونی والی چیز ہے۔

انڈونیشیا میں ہونے والے اس میوزک فیسٹیول میں 14 غیرملکی میوزیکل گروپ اور کچھ ملکی گروپ بھی حصہ لے رہے ہیں۔

تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والے آسٹریلوی،برطانوی اور امریکی اداروں نے بھی اس فیسٹیول میں حصہ لینے والے میوزیکل گروپوں پرتنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ بچوں میں تمباکو نوشی کو فروغ دے رہے ہیں۔

رپورٹ: سمن جعفری

ادارت: ندیم گِل

DW.COM