1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

انڈونیشیا میں جنگلات کے تحفظ کے لیے گرین پیس سرگرم

ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے گرین پیس نے انڈونیشیا میں کاغذ سازی کی صنعت سے وابستہ معروف ادارے ایشیا پلپ اینڈ پیپر کمپنی (APP) پر انڈونیشیا کے گھنے جنگلات کی تباہی کا الزام عائد کیا ہے۔

default

گرین پیس کے مطابق انڈونیشیا کے گھنے جنگلات کو تباہ کیا جا رہا ہے

گرین پیس کے مطابق اس انکشاف کے بعد دنیا کے سات بڑے اداروں نے اے پی پی سے کاروباری روابط ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کمپنیوں میں نیوزی لینڈ میں ڈیپارٹمنٹ اسٹورز کا سب سے بڑا گروپ The Warehouse Group Ltd اور مہنگے قلم بنانے والی کمپنی Montblanc International GmbH بھی شامل ہیں۔

گرین پیس کے مطابق سماٹرا جزیرے میں اے پی پی کے پلانٹ کے نزدیکی جنگلات کا تیزی سے صفایا کیا جا رہا ہے اور یہ گھنے جنگلات بقا کے خطرات سے دوچار سماٹرن ٹائیگرز کا بھی مسکن ہیں۔ عالمی ماحولیاتی ادارے کے اہلکار Bustar Maitarکے مطابق اے پی پی کو ان قدرتی جنگلات کی تباہی کو روکنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقطہ نظر سے بھی ان جنگلات کا تحفظ ضروری ہے۔

Flash-Galerie bedrohte Tierarten Tiger

جنگلات کی تباہی سے سماٹرن ٹائیگر کی نسل بھی خطرے سے دوچار ہے

ایشیا پلپ اینڈ پیپر کمپنی کا شمار دنیا میں کاغذ سازی کی صنعت سے وابستہ بڑے اداروں میں ہوتا ہے۔ کاغذ سازی کے علاوہ پام آئل کے باغات بھی ان کے کنٹرول میں ہیں جن کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پام آئل کے جنگلات اور ان سے وابستہ جنگلی حیات کی بقا کو خطرہ ہے۔ اے پی پی کی سالانہ پیداوار سات ملین ٹن ہے اور ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق یہ مصنوعات دنیا کے پینسٹھ ممالک میں برآمد کی جاتی ہیں۔

ادارے کی مینیجنگ ڈائیریکٹر ایڈا گرینبری، گرین پیس کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کا ادارہ ملکی قوانین کے دائرہ کار میں رہ کر کام کر رہا ہے۔ گرینبری نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ گرین پیس کے یہ الزامات دراصل انڈونیشیا کی حکومت کی جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے مرتب کی گئی پالیسیوں پر حملہ ہے اور کمپنی پر لگائے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ ملک میں کاغذ سازی کی صنعت کے لیے قدرتی جنگلات سے حاصل شدہ لکڑی استعمال ہوتی ہے تاہم تحفظ یا قدر و قیمت کے اعتبار سے یہ جنگلات اتنے معیاری نہیں ہیں۔

اس حوالے سے وزارت جنگلات کے ترجمان مشہود نے بتایا کہ ان کی وزارت جنگلات کے حوالے سے دی جانے والی مراعات کا سختی سے جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ قوانین پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ان اداروں کوبند نہیں کر سکتے جن کے پاس لائسنس ہیں۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: حماد کیانی

DW.COM