1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انڈونیشیا میں احمدیوں کی مسجدوں پر تالے

تقریبا ًدوسو افراد پر مشتمل ایک ہجوم نے انڈونیشیا کےجزیرےجاوا میں واقع امحدی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی آخری دو مسجدیں اور کچھ سکول بند کردئے ہیں۔

default

انڈونیشیا کی مشہور استقلال مسجد

مقامی باشندوں کے مطابق دو گروپوں‘ اہل سنت والجماعت اور یونائٹیڈ اسلامک سٹوڈنٹس نے بدھ کے روز جکارتا سے تقریباً ایک سو کلومیٹر دور کمپاکا کے علاقے میں واقع مسجد کو تالے لگا دئے ہیں اورسپرے پینٹ کی مدد سے دیواروں پر کچھ یوں لکھ دیا ہے: 'اس مسجد کو استعمال نہیں کیا جا سکتا'

کمپاکا کے پولیس سربراہ احمد یانی نے کہا ہے کہ پولیس نے ان گُروپوں کو مسجد بند کرنے سےنہیں روکا تاہم پولیس چاہتی ہے کہ سب کو تحفط فراہم ہو اور کوئی خون خرابہ نہ ہو۔ 'پولیس اس معا ملے میں مکمل طور پرغیرجانبدار رہنا چاہتی ہے۔'

پولیس سربراہ احمد یانی کے مطابق اس واقعہ میں کوئی بھی شخص زخمی نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں:'احمدی فرقے کے لوگ اپنے گھروں میں نماز ادا کر سکتے ھیں۔'

Islam in Indonesien, Sharia-Gesetze, Frau gegen Frau

دوسری جانب انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے انڈونیشیا کی پولیس کو مذہبی تنازِعات میں اپنا کردارادا نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پولیس کے مطابق Cibeber کے علاقے میں بھی مقامی لوگوں نے احمدی فرقے کے سکولوں اورمسجدوں کو بند کر دیا ہے۔ اس سے قبل احمدیوں نے اپنی مساجد اور سکول بند کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

Schwarz und Weiß

سخت گیر موقف کے حامل مذہبی گروپ حزب تحریر کے حامی مظاہرہ کرتے ہوئے

احمد یوں کی ایک بڑی تعداد کمپاکا میں آباد ہے جبکہ سن دو ہزار پانچ میں نواحی علاقوں کے تقریبا دو ہزار افراد پر مشتمل ہجوم نے حملہ کرکے ان کی مساجد‘ گھر اور دکانیں منہدم کر دی تھیں۔

جب سے انڈونیشیاکی حکومت نے احمدیوں کی طرف سے اپنے فرقے کی نشرو اشاعت کے عمل اور تبلیغ پر پابندی عائد کی ہے تب سے ان کے خلاف پرتشّدد کاروائیوں کے خدشے میں مذید اضافہ ہوگیا ہے۔

انڈونیشیا کے نائب صدر یوسف کالا کے مطابق حکومت احمدی فرقے پر پابندی عائد کرنا نہیں چاہتی بلکہ ان کو گھروں اور مسجدوں میں عبادت کرنے کی اجازت ہے تاہم اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے عقیدے کی طرف مائل کریں۔

Indonesien Islamistenführer Abu Bakar Bashi aus Haft entlassen

مذہبی رہنما ابو بکر بشیر اپنے حامیوں کی طرف ہاتھ ہلاتے ہوئے

انڈونیشیا میں سرگرم عمل سخت گیر موقف کے حامل مذہبی رہنما ابوبکر بشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگراحمدی فرقے کو مکمل طور پر بین نہ کیا گیا تومختلف قومی گروپوں کے درمیان پیچیدہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

عام مسلمان پیغمبر اسلام حضرت محمد کو آخری رسول مانتے ہیں جبکہ احمدی فرقے سے وابستہ افراد اس بات سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی بھی ایک پیغمبر اور مسیحا ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس فرقے کی بنیاد انیسویں صدی میں بھارت میں رکھی۔