1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انڈونیشیا: دوبارہ منتخب صدر یودھو یونو کو درپیش چیلنج

بدھ کو منعقد ہوئے صدارتی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق سابق جنرل اور لبرل خیالات کے حامل یودھو یونو نے حزب اختلاف کی رہنما میگاوتی سوکارنو پتری اور سبکدوش ہونے والے نائب صدر یوسف کالا کو ایک بڑی سبقت سے شکست دی۔

default

انڈونیشیا کے صدر یودھو یونو

سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا میں سوہارتو کے آمرانہ دور کے بعد منعقد ہوئے دوسرے براہ راست صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد یودھو یونو ، ملک کے نئے جمہوری دور میں مقبول ترین رہنما بن کر ابھرے ہیں۔

ڈوئچے ویلے کی تبصرہ نگار سیبلے گولٹے کے خیال میں انڈونیشیا میں صدارتی انتخابی مہم کو اکثر تجزیہ نگاروں نے اس لئے غیر دلچسپ قرار دیا تھا کیونکہ اس میں کوئی خاص اتار چڑھاؤ دیکھنے میں نہیں آیا تھا اور یودھو یونو کی کامیابی کا یقین پہلے سے ہی تھا۔ سوہارتو کے دور کے گیارہ سال بعد اگرچہ ملک میں ایک اور جمہوری انتخابی عمل اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

مسلسل دوسری مرتبہ صدراتی انتخاب میں کامیابی کے بعد یودھو یونو نے آج اپنے انتخابی وعدوں کا اعادہ کرتے ہوئے ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ غربت کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے ملکی اقتصادی ترقی کو یقینی بنائیں گے۔

Megawati Sukarnoputri

حزب اختلاف کی رہنما میگاوتی سوکارنو پتری

یودھویونو نے آج جمعرات کے روز جکارتہ میں صدارتی محل میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اس سال اقتصادی ترقی کی شرح کا ٹارگٹ چار سے ساڑھے چار فیصد تک بنتا ہے جبکہ اسی سال ملک میں اوسط شرح سود میں چھ فیصد تک کی کمی متوقع ہے۔ انہوں نےامید ظاہر کی کہ رواں سال افراط زر کی شرح میں بھی چار فیصد تک کی کمی ہوگی۔

اگرچہ عمومی خیال یہ ہے کہ یودھویونو کے دوسرے دور صدارت کے دوران ملک میں بدعنوانی، غربت اور بنیادی انتظامی ڈھانچے میں بہتری کے لئے مزیداصلاحات کی جائیں گی تاہم کئی مقتدر حلقے یہ شکوک بھی ظاہر کررہے ہیں کہ آیا یودھو یونو انتظامیہ ملک میں نئی اصلاحات کے قابل بھی ہے یا نہیں۔

سن 2004 میں انڈونیشیا کے عوام نے یودھو یونو کو جو مینڈیٹ دیا تھا اب اس کی تکمیل کے لئے یودھو یونو کو مزید وقت مل گیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ملک کو ترقی کی سمت رواں رکھنے میں دوبارہ منتخب ہونے والے صدر کو بڑے چیلنجوں کے ایک انبار کا سامنا ہو گا جو ان کی اہلیت پراثر انداز ہو سکتا ہے۔

صدر یودھو یونو کی حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ وہ کس طرح غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں تاکہ قدرتی وسائل سے مالا مال اس ملک میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھائی جا سکے۔ بد عنوانی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے ناموافق انتظامی ڈھانچے اور افسر شاہی کے اثر ورسوخ کی وجہ سے ، یودھو یونو کو مطلوبہ نتائج کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صدر کو اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے میں منقسم پارلیمان اور ریاستی طاقت کا مرکز کہلانے والے دیگر اداروں کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : مقبول ملک