1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انڈونیشیا: تاریک راہوں میں مارے جانے والوں کا کھوج

انڈونیشی حکومت نے کہا ہے کہ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں ہونے والی ہلاکتوں پر سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ پچاس برس قبل ایک ناکام تحریک کو ختم کرنے کے سلسلے میں پانچ لاکھ کے قریب افراد سکیورٹی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

default

سوکارنو اور سوہارتو

آج پیر سے انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ایک خصوصی سیمپوزیم کا آغاز ہوا ہے۔ اِس میں سن 1965 اور سن 1966 میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کو یاد کیا جائے گا۔ اِس دو روزہ سیمپوزیم میں صدر ودودو کی حکومت کے کئی وزرا بھی شریک ہیں۔ تقریباً پچاس برس قبل کمیونسٹ پارٹی کی تحریک کو جڑ سے اکھاڑنے کے عمل میں پانچ لاکھ کے قریب انسان تہ تیغ کر دیے گئے تھے۔ کچھ انڈونیشی حلقے حکومتی معذرت کے بھی طلب گار ہیں۔ اس مناسبت سے سکیورٹی منسٹر لہوت پنجائتان کا کہنا ہے کہ اُن ہلاکتوں کی مکمل چھان بین ضرور کی جائے گی لیکن حکومتی معافی خارج از امکان ہے۔

انڈونیشیا میں ہونے والی اِن ہلاکتوں کی ابتدا یکم اکتوبر سن 1965 سے ہوئی تھی اور اِس کی وجہ ایک دن پہلے ناکام بنا دی گئی ایک بغاوت کو قرار دیا گیا تھا۔ بائیں بازو کی عوامی تحریک سے جنم لینے والی ’بغاوت‘ کو اُس وقت کی انڈونیشی فوج کے سربرہ جنرل سہارتو نے ناکام بنا دیا تھا۔ انڈونیشی تاریخ میں یہ ’تیس ستمبر موومنٹ‘ کے طور پر یاد رکھی گئی ہے۔ اِس ناکام بغاوت کی کُلی ذمہ داری اُس دور کے ملکی کمیونسٹوں کی جماعت انڈونیشین کمیونسٹ پارٹی عائد کی گئی تھی۔ اِس میں فوج میں شامل کئی افسر اور جوان بھی شامل تھے۔

Indonesien Polizisten in Jakarta

پچاس برس قبل کی ہلاکتوں میں فوج اور پولیس کے دستے شامل تھے

مختلف علاقوں میں سے کمیونسٹوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے کئی مقامی حکومت نواز گروپوں کی مدد سے کمیونسٹ قرار دیے جانے والے افراد کا قتلِ عام جاری رکھا۔ اِس دوران ہزاروں افراد کو طویل مدت تک جیلوں میں مقید کر دیا گیا۔ انڈونیشیا میں امریکی سفیر رابرٹ بلیک نے سن 1965 اور 1966 دور کی خفیہ امریکی دستاویزات کو جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی حکومت اِن دنوں انڈونیشیا میں تقریباً پچاس برس قبل ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے خفیہ دستاویزات کو عام کرنے کے عمل کی حمایت کر رہی ہے۔ رابرٹ بلیک نے جکارتہ میں ہونے والے سمپوزیم کو درست سمت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اُس تاریک دور پر روشنی ڈالنے میں کامیاب ہو گا۔

اس بغاوت کی ناکامی کے بعد ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں سوئیکارنو کو منصبِ صدارت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا اور پھر فوج کے سربراہ سوہارتو اگلی تین دہائیوں تک اپنے ملک کے صدر رہے۔ سوہارتو کو جب 1998 میں طلبہ کی پرزور تحریک کے نتیجے میں اقتدار چھوڑنا پڑا تو اُن کی رخصتی کے بعد سن 1965 کے دور کی ہلاکتوں کے حوالے سے عوامی شعور اور آگہی نے عوامی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اسی دوران اُن ہلاکتوں کے حوالے سے انڈونیشی ادب تخلیق ہونے لگا اور ایک دستاویزی فلم’ دی ایکٹ آف کِلنگ‘ آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد بھی کی گئی تھی۔