1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انڈونیشیا ایک روادار ملک ہے، صدر یودھویونو

انڈونیشیا کے قومی دن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر سوسیلو بامبانگ یودھویونو نے کہا ہے کہ انڈونیشیا مذہبی رواداری کا قائل ہے۔

default

صدر یودھویونو

اپنی حکومت پر کی جانے والی متواتر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انڈونیشیا کے صدر یودھویونو نے منگل کے روز کہا کہ انڈونیشیا مذہبی رواداری اور برداشت والا ملک ہے۔ خیال رہے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انڈونیشیا کو تنقید کا سامنا ہے کہ وہ مختلف مذاہب کی آزادی کے حوالے سے ایک غیر مثالی ملک بنتا جا رہا ہے اور یہ کہ انڈونیشیا کی حکومت مذہبی جرائم کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

مسلم اکثریتی آبادی والے جنوب مشرقی ایشیا کے اس ملک کے یوم آزادی کے موقع پر سابق فوجی جرنیل یودھویونو نے تسلیم کیا کہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو خطرات لاحق ہیں، تاہم ان کی تقریر میں ملک کی مذہبی اقلیتوں کی تسلی کے لیے کوئی واضح بات نہیں کی گئی۔

Indonesien Umar Patek

سن دو ہزار دو کے بالی حملوں کا ملزم عمر پاٹک

یودھویونو نے اپنے ٹی وی خطاب میں کہا، ’’گو کہ انڈونیشیا کی تکثیریت، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کو خطرات لاحق ہیں، ہمارا یہ عزم ہے کہ انڈونیٹشیا ایک روادار قوم ہے۔ ہم اس کا دفاع کریں گے۔‘‘

تاہم ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات سے متفق نظر نہیں آتیں۔ فروری میں ایک مجمع کے ہاتھوں تین احمدیوں کے قتل کے حوالے سے ملزمین کو عدالت کی جانب سے دی جانے والی تین سے چھ ماہ کی سزاؤں پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے۔ خیال رہے کہ ان تمام افراد کا تعلق انڈونیشیا کے اکثریتی سنی فرقے سے تھا۔ اسی عدالت نے گزشتہ روز حملے میں اپنا ایک ہاتھ کھو دینے والے ایک احمدی شخص کو بھی چھ ماہ کی سزا سنائی۔ اس شخص کو مؤقف کہ وہ اپنا دفاع کر رہا تھا۔

خیال رہے کہ انڈونیشیا میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے اثر و رسوخ میں بھی حالیہ چند برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کی رائے میں یہ حالات انڈونیشیا کی حکومت کی جانب سے ایک ٹھوس لائحہ عمل اور کارروائی کے متقاضی ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM