1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

انٹرنیٹ کے لیے عالمی ضابطے مقرر کیے جائیں، سارکوزی

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے پیرس میں انٹرنیٹ سے متعلق معروف ترین ماہرین کے ایک فورم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے لیے کچھ نہ کچھ ضابطے ضرور مقرر کیے جائیں۔

نکولا سارکوزی

نکولا سارکوزی

اس فورم کی افتتاحی تقریب میں نکولا سارکوزی نے انٹرنیٹ ڈویلپرز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’’اپنے لائے ہوئے اس انقلاب کو پرائیویسی کے حوالے سے لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا ذریعہ یا اسے بالکل خود مختار نہ بننے دیں۔‘‘ انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ محض ملکی سطح پر اس کے لیے بنائے گئے ضابطے کافی نہیں ہیں۔

اس فورم میں کمپیوٹر اور سوفٹ ویئر کی دنیا سے قریب ایک ہزار ماہرین شریک ہیں، جن میں فیس بُک کے بانی مارک سُوکر برگ اور گُوگل کےسابق چیف ایگزیکٹو ایرک شمٹ اور نیوز کارپوریشن کے روپرٹ مرڈوک سمیت دیگر اہم ماہرین شامل ہیں۔

اس فورم میں فیس بُک کے بانی مارک سُوکر برگ سمیت کمپیوٹر اور سوفٹ ویئر کی دنیا سے قریب ایک ہزار ماہرین شریک ہیں

اس فورم میں فیس بُک کے بانی مارک سُوکر برگ سمیت کمپیوٹر اور سوفٹ ویئر کی دنیا سے قریب ایک ہزار ماہرین شریک ہیں

انٹرنیٹ ڈویلپرز فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نکولا سارکوزی کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ تک رسائی جمہوریت کی نشانی ہے: ’’کسی پابندی کے بغیر انٹرنیٹ تک رسائی دراصل جمہوریت اور آمریت کے درمیان فرق کا معیار ہے۔‘‘

سارکوزی کے مطابق انٹرنیٹ نے ملکوں کے سربراہوں کے کام کرنے کے طریقہ کار کو بدل کر رکھ دیا ہے،کیونکہ کوئی بھی سربراہ کچھ بھی کرتا ہے، وہ فوراﹰ لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور اس کی طرف سے کیے گئے کسی بھی فیصلے کا فوری اور عالمی سطح پر اثر سامنے آتا ہے۔

فرانسیسی صدر نے دنیا کی آٹھ طاقتور ترین اقوام کے گروپ جی ایٹ اور انٹرنیٹ سے متعلق بڑی تعداد میں موجود ماہرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’’ہمیں ایک دوسرے سے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔‘‘ سارکوزی نے فِکری ملکیت کے حقوق یا انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کی بھی حمایت کی: ’’ میرا یقین ہے کہ فکری ملکیت کے حوالے سے یہ قانون کہ کسی بھی فنکار کو اس کے خیالات اور صلاحیتوں کے عوض مالی فائدہ حاصل ہو، اس کا اطلاق ان تمام ممالک پر ہوتا ہے جن کی ہم نمائندگی کر رہے ہیں۔‘‘

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس