1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

انٹرنیٹ پر بات کرنے اور دیکھنے کے بعد اب چھونا بھی ممکن

ہانگ کانگ میں قائم چینی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسا روبوٹک ہاتھ بنایا ہے جسے آپ انٹرنیٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے اپنے محبوب کا ہاتھ تھام یا چھو سکیں گے۔

default

ہزاروں میل کے فاصلے کے باوجود بھی انٹرنیٹ کے ذریعے آپ اپنے پیاروں کو دیکھ اور ان سے باتیں تو کرہی سکتے ہیں مگر چینی سائنسدانوں کے مطابق بہت جلد آپ انہیں چھو بھی سکیں گے۔

محققین کے مطابق اس نئی ایجاد سے انٹرنیٹ ڈیٹنگ کی دنیا کو ایک نئی جہت ملے گی۔

Diese High-End Handprothesen, die durch die Auswertung von Muskelströmen gesteuert werden können Handprothesen

چینی سائنسدانوں کا تیار کردہ ایک روبوٹک ہاتھ انٹرنیٹ سے موصول ہونے والے سگنلز کے مطابق حرکت کرتا ہے۔

چائنیز یونیورسٹی کے محققین کا تیار کردہ کلائی پر باندھنے والا ایک مخصوص بینڈ جسے سائبر ہینڈ کا نام دیا گیا ہے کسی فرد کے مسلز یعنی پٹھوں کی حرکت کو بذریعہ کمپیوٹر الیکٹریکل سگنلز کے طور پر انٹرنیٹ کو بھیج سکتا ہے۔ دوسرے سرے پر موجود ایک روبوٹک ہاتھ ان سگنلز کو استعمال کرتے ہوئے وہی حرکت کرتا ہے جو اس فرد نے کی ہو۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کلائی پر باندھنے والا مخصوص بینڈ فی الحال دس مختلف طرح کی حرکات کو پہچان سکتا ہے، مگر انہیں یقین کے ہے کہ بہت جلد یہ کسی بھی ہاتھ سے کی جانے والی تمام حرکات کو پہچان کر انہیں الیکٹرک سگنلز میں تبدیل کرسکے گا۔ اور یوں کوئی بھی فرد انٹرنیٹ کے ذریعے ہزاروں میل دور موجود اپنے محبوب کے ہاتھوں کے لمس کو محسوس کرسکے گا۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عابد حسین