1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انٹرنیٹ فلم کمپنی کے دفاتر پر تین ملکوں میں چھاپے

جرمنی، فرانس اور اسپین میں پولیس حکام نے بدھ کے روز مختلف شہروں میں ایک ایسی جرمن کمپنی کے ذیلی دفاتر پر چھاپے مارے، جس پر شبہ ہے کہ وہ لاکھوں مرتبہ فلم کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔

,

جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں میں ملکی دفتر استغاثہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ Kino.to نامی اس انٹرنیٹ کمپنی کے جرمنی، فرانس اور اسپین میں قائم دفاتر پر تقریباﹰ بیک وقت اور مربوط انداز میں یہ چھاپے اس سلسلے میں بین الاقوامی تفتیشی عمل کے دوران مارے گئے کہ یہ کمپنی کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انٹرنیٹ صارفین کو کمرشل فلمیں دیکھنےکا موقع فراہم کرتی تھی۔

مختلف خبر رساں اداروں نے برلن سے جرمن حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ Kino.to بنیادی طور پر جرمن زبان کی ایک ویب سائٹ ہے، جس کے صارفین یا گاہکوں کی روزانہ تعداد چار ملین کے قریب بنتی ہے۔ اس بارے میں جرمنی کے جنوب مشرقی شہر ڈریسڈن میں ریاستی دفتر استغاثہ کی طرف سے بتایا گیا کہ اس کمپنی کی مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کی چھان بین کے سلسلے میں بدھ کے روز صرف جرمنی میں 20 مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔

Videothek DVDs Internet Köln

کاپی رائٹس کی خلاف ورزی پر فلمی صنعت کو شدید مالی نقصان پہنچتا ہے

اس کارروائی کے دوران 13 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ایک مبینہ ملزم کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔ برلن اور ڈریسڈن میں حکام نے نہ تو یہ بتایا کہ جرمنی میں یہ چھاپے کن شہروں میں مارے گئے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی تفصیلات جاری کی گئی ہیں کہ فرانس اور اسپین میں کی گئی وہاں کی قومی پولیس کے اہلکاروں کی کارروائی کے نتائج کیا رہے۔

ڈریسڈن میں ریاستی دفتر استغاثہ کے بیان کے مطابق Kino.to نامی جرمن انٹرنیٹ کمپنی اپنے گاہکوں کو online streaming کے ذریعے فلمیں دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور شبہ ہے کہ یہ کمپنی اس شعبے میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے ایک منظم گروہ کا حصہ ہے۔

جرمن تفتیشی ماہرین کی رائے میں ہر روز لاکھوں ناظرین کو غیر قانونی طور پر فلموں کے ذریعے تفریح فراہم کرنے والے اس ادارے پر شبہ ہے کہ وہ اب تک مجموعی طور پر ایک ملین سے زائد مرتبہ کمرشل فلموں کے کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس