1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انٹرنیٹ سکریننگ: آن لائن یوزرز برہم

دو چار روز قبل بھارتی وزیر کپل سبل نے کہا تھا کہ ان کی حکومت آزادئ رائے کو درست خیال کرتی ہے لیکن انٹر نیٹ پر شائع ہونے والا اشتعال انگیز مواد کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔

default

بھارتی وزیر مواصلات کپل سبل کے اس اعلان نے انٹرنیٹ یوزرز کے لیے برہمی کا سامان پیدا کردیا ہے۔ ان افراد کے جذباتی بیانات سے ایسے امکانات پیدا ہو چلے ہیں کہ عالمی سطح پر بھارت کا آزادئ رائے کا احترام کرنے والے ملک کا تشخص مجروح نہ ہو جائے۔ بھارتی وزیر نے گوگل، یاہو، فیس بک اور دیگر انٹرنیٹ سرچ انجنوں اور سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر شائع اور دستیاب مواد کی اسکریننگ کا مطالبہ کیا تھا۔

انٹرنیٹ صارفین نے بھارتی حکومت کے لیے صورت حال کو مشکل بنا دیا ہے۔ اندرون ملک کے علاوہ دوسرے ملکوں میں رہنے والے بھارتی افراد نے حکومت کے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اہم مرکز بنگلور میں قائم مرکز برائے انٹرنیٹ اینڈ سوسائٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنیل ابراہم کا کہنا ہے کہ حکومتی ایکشن بظاہر ناقابل عمل دکھائی دیتا ہے۔ ابراہم کے مطابق اس حکومتی کارروائی سے اس ملک کے جمہوری تشخص پر بھی ناقابل تلافی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ کئی اور انٹرنیٹ اداروں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس حکومتی اقدام سے بھارت آن لائن کمیونٹی میں تنہا ہو سکتا ہے۔ انٹرنیٹ اداروں نے حکومتی پلان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

India Internet Subscriber

بھارت کی انتہائی بڑی آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے

بھارت کے وزیر مواصلات کپل سبل نے گزشتہ منگل کے روز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ تین ماہ قبل انٹر نیٹ کمپنیوں کو شکایت روانہ کی گئی تھی کہ وہ انٹر نیٹ پر شائع ہونے والے اشتعال انگیز اور ناقابل قبول مواد کو روکنے یا اس کی اسکریننگ کرنے کا مناسب حل تلاش کریں۔ کپل سبل نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارتی حکومت انٹرنیٹ پر اشتعال انگیز مواد کو روکنے کے حوالے سے رہنما اصولوں پر مبنی ایک نظام وضع کرے گی تا کہ انٹرنیٹ کلچر کو درست سمت دی جا سکے۔

بھارتی وزیر نے انٹرنیٹ سرچ انجنوں اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس سے یہ بھی کہا تھا کہ ان کمپنیوں اور اداروں کو یہ معلومات فراہم کرنا ہوں گی کہ ایسا اشتعال انگیز مواد کون اور کہاں سے شائع کر رہا ہے۔ سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ فیس بک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ بھارتی حکومتی تشویش سے آگاہ ہے اور وہ اس مناسبت سے اپنا تعاون جاری رکھے گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM