1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انٹرنیٹ بدنامی کا باعث بھی بن سکتا ہے

گوگل انجن میں اپنا نام سرچ کریں۔ کیا آپ کا نام اچھے لوگوں کی فہرست میں شامل ہے یا برے لوگوں کی لسٹ میں؟ اگر ڈھونڈے پر آپ کا نام مشتبہ افراد کے ساتھ ملے، تو آپ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

default

آج کل آپ کی آن لائن شہرت بھی اچھی ہونی چاہیے۔ آپ کے دوست، پارٹنر اور آجر بھی آپ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے اب انٹرنیٹ کا رخ کرتے ہیں۔ انٹر نیٹ پر آپ کس طرح مشکلات سے بچ سکتے ہیں؟ اس کے لئے چند طریقے درج ذیل ہیں۔

اگر آپ اپنا نام سرچ انجن میں ٹائپ کرتے ہیں اور آپ کے نام سے منسلک کوئی غلط انفارمیشن سامنے آتی ہے، تو آپ کو کیا کرنا چاہیے۔؟

اس کا آسان حل یہ کہ آپ اپنا بلاگ یا پھر اکاؤنٹ بنائیں تاکہ آپ سے متعلقہ درست معلومات بھی انٹرنیٹ پر آسکیں۔

Logos von twitter RSS und Youtube

Logos von twitter RSS und Youtube. Eingestellt Juli 2010

اگر آپ کے بارے میں انٹر نیٹ پرکچھ غلط معلومات شائع کر دی گئی ہیں اور آپ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا ہوگا۔؟ اس کا حل یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ، جس ویب سائٹ پر مواد شائع ہوا ہے، اس کے ویب ماسٹر سے رابطہ کریں۔ اکثر ویب سائٹس کے نیچے ان سے رابطے کے لئے تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ویب سائٹس اپنے صارف کی مشکلات دور کرنے کے لئے فوری طور پر تیار ہوتی ہیں۔ یہ کسی بھی طرح ان کے مفاد میں نہیں کہ آپ ان سے ناراض ہوں یا شکایت کریں۔

اگر یہ تمام تر تدابیر ناکام ہوجاتی ہیں تو آپ ایسے اداروں کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں، جو انٹرنیٹ سے متعلق بہت زیادہ معلومات رکھتے ہیں اور کسی بھی شخص سے متعلق نا پسندیدہ انفارمیشن کو انٹرنیٹ سے ’’صاف‘‘ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ریپوٹیشن ڈیفینڈر نامی ایک کمپنی کوماہر سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح اگر آپ کا سمارٹ فون گم ہوگیا ہے، جس میں آپ سے متعلق انتہائی زیادہ اور اہم معلومات تھیں تو پھر آپ کو کیا کرنا چاہیے۔؟ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ ہمیشہ سمارٹ فون پر پاس ورڈ لگا کر رکھیں۔ آغاز میں یہ مشکل تو لگے گا لیکن یہ اس نقصان سے کم ہے، جو آپ کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ سمارٹ فون پر آپ کوئی بھی سافٹ ویئر انسٹال کرنے سے پہلے خیال رکھیں کہ پاس ورڈ ہمشیہ کے لئے سیو نہ کریں۔ مثال کے طور پر ٹویٹر اور فیس بک پرکبھی بھی پاس ورڈ محفوظ نہ کریں۔ دوسری صورت میں آپ کو کسی بھی نا تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح کبھی بھی اپنے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اپنے موبائل یا ای میل میں نہ رکھیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM