1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انٹرنیشنل گرین وِیک برلن: پاکستان کا بھرپور شرکت کا فیصلہ

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان عالمی معیارات کی حامل بیس سے زائد فوڈ آئیٹمز کو جرمنی کے شہر برلن میں اگلے مہینے ہونے والی دنیا کی خوراک و زراعت کی سب سے بڑی نمائش "انٹرنیشنل گرین ویک" میں پیش کرنے جا رہا ہے۔

انٹرنیشنل گرین ویک ، برلن

انٹرنیشنل گرین ویک ، برلن

ممتاز جرمن ادارے میٹرو کیش اینڈ کیری کا ایک ذیلی ادارہ سٹار فارم پاکستانی مصنوعات کی پیداوار، ان کی پراسیسنگ اور پیکنگ کے علاوہ ان کی عالمی منڈی میں ترسیل کے لیے انٹرنیشنل سرٹیفیکیشن کے حصول کے سلسلے میں پاکستانی تاجروں کی رہنمائی کر رہا ہے۔

جرمنی میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے حکام، پنجاب حکومت کے متعلقہ اہلکار اور پاکستانی نجی کمپنیوں کے ذمہ داران آج کل اس میلے میں شرکت کے لیے بھرپور تیاریاں کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی منڈی تک رسائی کی ان کوششوں کی کامیابی کے نتیجے میں پاکستان کو نہ صرف اپنی برآمدات میں اضافہ کرنے کا موقع ملے گا بلکہ پاکستان کو ’’عالمی برادری کے لیے فروٹ باسکٹ‘‘ بنانے کا پرانا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔

اس نمائش میں پیش کیے جانے والے پھلوں، سبزیوں، اور لائیو سٹاک کی مصنوعات کے لیے فاسٹ ٹریک کے ذریعے بین الاقوامی تصدیقی سرٹیفیکیٹس حاصل کیے جا رہے ہیں۔ برلن کی اس عالمی نمائش میں رکھی جانے والی یہ مصنوعات مکمل طور پر ٹریس ایبل ہیں۔ ایک آئی فون کے ذریعے ان مصنوعات کی پیکنگ پر لگے ہوئے ایک کوڈ کی مدد سے ان کی پیداوار اور پراسیسنگ کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، ان مصنوعات کے کاشتکار کی تصویر دیکھی جا سکتی ہے اور گوگل کی وساطت سے اُن کھیتوں کا مشاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے، جہاں یہ مصنوعات پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی پیداوار میں استعمال ہونے والی مٹی اور پانی کی ٹیسٹ رپورٹس اور دیگر تصدیقی ڈاکومنٹس بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

صرف جرمنی میں بیس بڑےتجارتی ادارے تین سو ارب امریکی ڈالرز کی مالیت کا تازہ پھل منگواتے ہیں

صرف جرمنی میں بیس بڑےتجارتی ادارے تین سو ارب امریکی ڈالرز کی مالیت کا تازہ پھل منگواتے ہیں

جرمنی کے شہر برلن میں 1926ء سے منعقد ہونے والی انٹرنیشنل گرین ویک نامی اس نمائش کو خوراک، زراعت اور لائیو سٹاک کی مصنوعات کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا تجارتی میلہ مانا جاتا ہے۔ پاکستان کے نجی کاروباری ادارے اس نمائش میں آلو، ٹماٹر، آم، تربوز، گائے اور بکری کا گوشت، دودھ اور انڈوں سمیت بیس سے زیادہ مصنوعات پیش کریں گے۔

اس نمائش میں لگائے جانے والے سٹالوں کے ڈیزائن تیار کر لیے گئے ہیں۔ ان سٹالوں پر نمائش کے لیے پیش کی جانے والی مصنوعات سے تیار کردہ کھانے بھی شائقین کو پیش کیے جائیں گے۔ اس موقع پر یورپ کی بڑی تجارتی کمپنیوں کے سربراہوں، میٹرو کیش اینڈ کیری کے سٹورز کے جنرل مینیجروں اور کاروباری اور سرکاری شخصیات کے ساتھ خصوصی نشستوں کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔

پنجاب حکومت کے محکمہ زراعت کے ترجمان رفیق اختر نے بتایا کہ زرخیز زمین، سستی لیبر، دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام اور موافق موسمی حالات کا حامل پاکستان جنوبی ایشیا کا ایسا زرعی ملک ہے جوکینو اور کھجوریں پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا، کپاس پیدا کرنے والے دنیا کا پانچواں بڑا، چاول پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا اور آم پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نہ صرف دودھ کی پیداوار کے اعتبار سے بھی دنیا کا پانچواں بڑا بلکہ لائیو سٹاک کی بعض مصنوعات یعنی چھوٹے گوشت کی پیداوار کے حوالے سے بھی دنیا کا دوسرا بڑا ملک مانا جاتا ہے۔ اس سب کے باوجود خوراک کی ایک ہزار ارب امریکی ڈالر کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ مایوس کن حد تک کم ہے۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کی پاکستانی برآمدات صرف نصف ارب ڈالر کے قریب بتائی جاتی ہیں۔

پاکستانی صوبہء پنجاب کے وزیر اعلیٰ اس سال مئی میں سٹار فارم کا افتتاح کر رہے ہیں

پاکستانی صوبہء پنجاب کے وزیر اعلیٰ اس سال مئی میں سٹار فارم کا افتتاح کر رہے ہیں

عالمی میلے میں نمائش کے لیے تجویز کی جانے والی پاکستانی مصنوعات کو جمعے کے روز اسلام اباد کے پنجاب ہاؤس میں بھی نمائش کے لیے رکھا گیا۔ اس موقع پر یورپی ملکوں کے سفیروں کو اس حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔

سٹار فارم کے کنٹری مینیجر سید شوکت علی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پاکستان عالمی منڈیوں میں اپنی زرعی مصنوعات متعارف کرواتے ہوئے میٹرو، میکرو، وال مارٹ اور ٹیسکو جیسے اداروں کی شرائط پوری کرنے کے قابل ہو جائے گا اور اس کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بین الاقوامی سٹورز کھلیں گے اور پاکستانی کسانوں کو ان کی فصل کی اچھی قیمت مل سکے گی۔

پنجاب حکومت نے بین الاقوامی سرٹیفیکیشن حاصل کرنے والے پاکستانی تاجروں اور کسانوں کی مالی معاونت کے لیے دو ارب روپے کی رقم سے ایک منصوبہ "سپلائی چین مینیجمنٹ پراجیکٹ"کے نام سے شروع کر رکھا ہے۔ اس منصوبے کے چیف کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رفیق الرحمان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ دنیا میں انسانی آبادی اورگاہکوں کی قوت خرید میں اضافے کے ساتھ ساتھ اچھی خوراک کے حصول کا شعور بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ دنیا اچھے معیار کی خوراک کے لیے اچھی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے بقول پاکستان عالمی منڈی سے اس لیے اب تک باہر رہا ہے کیونکہ وہ اس منڈی کی شرائط پوری نہیں کر سکا ہے۔ ان کے بقول صرف جرمنی میں بیس بڑےتجارتی ادارے تین سو ارب امریکی ڈالرز کی مالیت کا تازہ پھل منگواتے ہیں۔ اگر پاکستان کو اس مارکیٹ کا صرف ایک فی صد شیئر بھی مل جائے تو اس سے ملک میں تین ارب ڈالرز کا زر مبادلہ آئے گا۔

یاد رہے کہ جرمنی کی مدد کی بدولت پاکستان کو ایک ایسے وقت میں عالمی منڈی میں رسائی دلانے کی کوششیں ہو رہی ہیں جب امریکہ کی طرف سے پاکستان کی امداد کو مشروط یا کم کرنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امجد علی

DW.COM