1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنامنٹ، نہانے کے لیے گرم پانی بھی نہیں

پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں کی طرح سال 2011 بھی کھیلوں کی سرگرمیوں اور ان کے انعقاد کے حوالے سے مایوس کن رہا۔ مایوسی میں ملکی حالات کے ساتھ ساتھ حکومتی عدم دلچسپی بھی عیاں ہے۔

default

اس صورتحال کی واضح مثال اسلام آباد میں جاری دوسرا بینظیر بھٹو انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنامنٹ ہے۔ بین الاقوامی ٹیموں کی شرکت کے لحاظ سے تو اس ایونٹ کو 2011ء میں پاکستان میں ہونے والا کھیلوں کا سب سے بڑا مقابلہ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن مبینہ حکومتی عدم تعاون نے اس ٹورنامنٹ میں شریک ممالک کی ٹیموں اور مقامی شائقین کو انتہائی مایوس کیا ہے۔22 سے 29 دسمبر تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں بھارت، ایران، سری لنکا، افغانستان، بنگلہ دیش، منگولیا، ا زبکستان، بلغاریہ، گھانا، کینیا، نیپال، فلپائن، شام، سلووینیہ اور سنگا پور سمیت سولہ ممالک کی ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ ان ممالک کی ٹیموں کے کھلاڑیوں کو ابتدائی طور پر تو فائیو سٹار ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا لیکن بعد میں سکیورٹی خدشات کو وجہ بتاتے ہوئے تمام کھلاڑیوں کو سپورٹس کمپلیکس کے ناقص انتظامات والے ہاسٹل کے کمروں میں منتقل کر دیا گیا۔

حکومتی عدم تعاون کا شکوہ کرتے ہوئے پاکستان باکسنگ کے سیکرٹری اکرم خان نے بتایا، ’’ابھی بھی یہاں پر سیکورٹی کے حوالے سے خدشات ہیں۔ ہم نے فوری طور پر ہوٹل سے ٹیمیں شفٹ کی ہیں۔ سیکورٹی کی وجہ سے یہاں سپورٹس کمپلیکس میں، لیکن یہاں پر جو مسائل ہیں ان کو حل کرنے کے لیے حکومت کے کسی بھی آدمی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔‘‘

Kubanischer Boxer Guillermo Rigondeaux Ortiz

اس ٹورنامنٹ میں بھارت، ایران، سری لنکا، افغانستان، بنگلہ دیش، منگولیا، سلووینیہ اور سنگا پور سمیت سولہ ممالک کی ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں

غیر ملکی کھلاڑیوں کو تو سہولیات کی فراہمی پر شکایات ہیں ہی لیکن اپنے ملک کے کھلاڑی بھی خود کو درپیش مشکلات کا شکوہ کرتے نظر آئے۔ ٹورنامنٹ میں اب تک ہونے والے مقابلوں میں سب سے زیادہ یعنی29 پوائنٹس سے اپنے بنگلہ دیشی حریف کو شکست دینے والے پاکستانی باکسر محمد حسین کا کہنا ہے، ’’سہولیات بہت کم ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہمارے پاس گرم پانی کی سہولت نہیں۔ ٹھنڈے پانی سے ہم لوگ نہا رہے ہیں ایک تو سردی کا موسم ہے اوپر سے بندے کو پسینہ آتا ہے اور نہانے کے لیے جائیں تو گرم پانی بھی نہ ملے یہ تو حالات صحیح نہیں ہے۔‘‘

اکرم خان کا کہنا ہے اس وقت ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، جو بےنظیر بھٹو کے مشن پر چلنے کی بات کرتی ہے لیکن ان کے نام پر ہونے والے ٹورنامنٹ کی طرف کسی کے پاس دھیان دینے کے لیے وقت نہیں۔ انہوں نے کہا، ’’افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنے ممالک یہاں پر آئے ہیں ان کے لیے ایک سرکاری عشائیے کا اعلان تک نہیں کیا گیا۔ یہ بہت دکھ اور شرمندگی کی بات ہے۔دوسری طرف چین کی ایک ہاکی ٹیم آئی ہوئی ہے اور پوری حکومت اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ یہاں اتنے ممالک آئے ہیں لیکن حکومت کی ان پر نظر نہیں پڑ رہی‘‘

اس تمام صورتحال کے باوجود چند نوجوان باکسر خوش بھی دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ٹورنامنٹ سے ان کو سیکھنے کا ایک اچھا موقع ملا ہے۔ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان باکسر نعمت اللہ نے کہا، ’’گیم کی تکنیک کے حوالے سے یہ فرق ہے کہ بھارت کے کھلاڑی سال میں چھ ماہ ملک سے باہر رہتے ہیں جبکہ ہم لوگ سال میں بارہ مہینے پاکستان میں کھیلتے ہیں۔ اولمپک کوالیفائنگ کے لیے اگر آپ دوسرے ملک میں جائیں اور ٹریننگ کریں تو آپ کا تجربہ زیادہ ہو جاتا ہے۔‘‘

دریں اثناء پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان پیر کی صبح اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں پر وہ 29 دسمبر کو اس باکسنگ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کریں گے۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM