1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انٹارکٹک میں پھنسا جہاز، ریسکیو کوششیں جاری

نیوزی لینڈ کی رائل ایئر فورس کا ایک ہوائی جہاز کل بدھ کے روز بحر منجمد جنوبی کے اوپر پرواز کرتے ہوئے دوسری مرتبہ اس جگہ تک جائے گا، جہاں روسی ماہی گیروں کی ایک بڑی کشتی پھنسی ہوئی ہے۔

default

نیوزی لینڈ میں ویلنگٹن سے ملنے والی جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی روس کی یہ بہت بڑی کشتی بحر منجمد جنوبی کے پانیو‌ں کے نیچے ایک آئس برگ سے ٹکرا گئی تھی، جس کے نتیجے میں اس میں سوراخ ہو گیا تھا۔

48 میٹر لمبی اسپارٹا نامی اس کشتی پر اس کے عملے کے 32 ارکان بھی سوار ہیں۔ اس کشتی کو یہ حادثہ پانچ روز قبل پیش آیا تھا اور تب سے لے کر اب تک یہ کشتی اور اس کے عملے کے ارکان حادثے کی جگہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔

ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ ایئر فورس کے حکام نے بتایا کہ اسپارٹا نامی اس فشنگ بوٹ کو پیش آنے والے حادثے کے بعد کل 21 دسمبر بدھ کے روز متاثرہ افراد تک جو ہوائی جہاز بھیجا جائے گا، وہ اپنی نوعیت کی دوسری mercy flight ہو گی اور اس پرواز کے ذریعے اسپارٹا تک واٹر پمپس اور دوسرا ساز و سامان پہنچایا جائے گا۔

Eisberg Antarktis NO FLASH

یہ کشتی ایک آئس برگ سے ٹکرائی تھی

نیوزی لینڈ کے امدادی کارروائیوں کے رابطے کے دفتر کے ترجمان کیون بیناہین نے بتایا کہ اسپارٹا کے عملے کے ارکان اپنی کشتی کو پیش آنے والے حادثے کے پانچ روز بعد بھی اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس لیے ابھی تک پانی کے پمپوں کی مدد سے مسلسل اس کشتی سے پانی واپس سمندر میں پھینک رہے ہیں تا‍ کہ اسے ڈوبنے سے بچایا جا سکے۔

کیون بیناہین نے آج منگل کو بتایا کہ اسپارٹا نامی فشنگ بوٹ اس وقت بحر منجمد جنوبی میں جس جگہ پانی میں کھڑی ہوئی ہے، وہ نیوزی لینڈ سے 3700 کلو میٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اس روسی فشنگ بوٹ کو پیش آنے والے حادثے کے بعد سے فوری طور پر تین بحری جہاز اس کشتی کی طرف بھیجے جا چکے ہیں جن میں سے ایک آئس بریکر یا برف توڑنے والا جہاز ہے۔

ویلنگٹں میں کیون بیناہین نے بتایا کہ یہ کشتی بحیرہ رَوس (Ross Sea) میں کھڑی ہے جو انٹارکٹک کے علاقے میں آئس شیلف کہلانے والے بہت وسیع برفانی علاقے سے زیادہ دور نہیں ہے۔

ماہرین اب یہ کوشش کر رہے ہیں کہ Aaron نامی جو آئس بریکر انہوں نے اسپارٹا کی طرف روانہ کیا ہے، اسے ابھی اس کشتی اور اس کے عملے کے 32 ارکان تک پہنچنے میں مزید چھ دن لگیں گے۔ اس لیے فوری طور پر یہ بات یقینی بنائی جانی چاہیے کہ ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی یہ کشتی، جس میں اس کی واٹر لائن سے قریب 1.5 میٹر نیچے 30 سینٹی میٹر چوڑا ایک سوراخ ہو چکا ہے، کسی بھی طرح ڈوبنے نہ پائے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM