1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

انوکھی حس، کتے کینسر کا پتا چلا سکتے ہیں

کتے منشیات، کرنسی اور یہاں تک کہ دھماکا خیز مواد کا پتا اس کی بوُ سونگھ کر چلا لیتے ہیں۔ اب میڈیا اور محقیقن کتوں کی اس نئی صفت کے بارے میں جان کر خوش ہو رہے ہیں کہ کتوں کو کینسر کا پتا چل جاتا ہے۔

مثال کے طور پر سن 2016ء میں اداکارہ شینن ڈوھرتی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بریسٹ کینسر کے بارے میں ڈاکٹر سے پہلے ہی ان کے کتے نے پتا چلا لیا تھا۔ زیادہ سے زیادہ افراد یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے کتے کا رویہ عجیب ہو گیا تھا اور وہ جسم کے کینسر والے حصے کو پنجہ مارنا شروع ہو گئے تھے جبکہ  انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں اسی جگہ کینسر  ہے۔

اسی طرح کچھ مطالعاتی جائزوں سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ  کتے چھاتی کے کینسر، پھیپھڑوں کا کینسر اور  پروسٹیٹ کینسر کا پتا چلانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ سن 2006ء میں امریکی سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہیں کتوں کے ذریعے پھیپھڑوں کے کینسر کا پتا چلانے کے حوالے سے ننانوے فیصد کیسز میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ لیکن دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی مریض کی زندگی سے اس طرح نہیں کھیلا جا سکتا کیوں کہ کتے اس قدر قابل اعتبار نہیں ہیں۔

سن 1989 میں بھی سائنسدانوں نے تجویز پیش کی تھی کہ کتوں کی سونگھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور اسے کینسر زدہ خلیات کا پتا چلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کتے کینسر کی وجہ سے پیدا ہونے والے غیر معمولی نامیاتی مرکبات سونگھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کینسر کا وہ انسانی سانس، پیشاب اور انسانی جلد کو سونگھ کر پتا چلا لیتے ہیں۔

جرمنی کی یونیورسٹی آف بون میں گیسوں کے اخراج کا پتہ چلانے کی تحقیق سے وابستہ پروفیسر پیٹر بوئکر کا کہنا تھا، ’’ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ خاص چیز کیا ہے، جو کتے میں ردعمل پیدا کرتی ہے۔‘‘ سائنسدان بھی اب تک یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ کتوں کی سونگھنے کی حس پر کونسی چیز اثرانداز ہوتی ہے؟ سائنسدانوں کے خیال میں یہ کینسر  کے مختلف عناصر ہو سکتے ہیں، جو مل کر ایک مخصوص بُو پیدا کرتے ہیں، جنہیں صرف کتے ہی سونگھ سکتے ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے اس حوالے سے ایک منصوبے کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس کے تحت کروائی گئی ایک تحقیق کے نتائج سے پتا چلا ہے کہ 93 فیصد کیسز میں کتے کینسر کا پتا چلانے میں کامیاب رہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں کتوں کی ذریعے کینسر کی تشخیص بہت ہی مشکل مرحلہ ہے۔ ایک تو اس کے لیے کتوں کی تربیت کے لیے کافی وقت اور پیسے درکار ہوں گے اور دوسرا پوری دنیا کے ہسپتالوں میں تربیت یافتہ کتے فراہم کرنا ناممکن ہے۔