1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انقلاب ایران کی سالگرہ: ہر طرف سیلفیاں اور بینرز

امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے کے چند ہفتے بعد تہران میں ایک مرتبہ پھر ہر طرف’امریکا مردہ باد‘‘ کے بینرز آویزاں ہیں جبکہ جلوسوں کے شرکاء بیلاسٹک میزائل کے ساتھ سلیفیاں بنا رہے ہیں۔

آج انقلاب ایران کی سینتیسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں گیارہ فروری کو ہزاروں افراد تاریخی آزادی چوک پر جمع ہیں، جہاں ایرانی صدر حسن روحانی کا ان سے خطاب طے ہے۔ اس جشن میں شریک ہزاروں افراد نے روایتی بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں، جن پر ہمیشہ کی طرح ’’امریکا مردہ باد‘‘ اور ’’اسرائیل مردہ باد‘‘ جیسے نعرے درج ہیں۔ مرکزی جلوس کے شرکاء کی ایک بڑی تعداد نے ایرانی جھنڈے بھی اٹھا رکھے ہیں۔

سن 1979ء کے بعد سے انقلاب ایران کا جشن ہر سال منایا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ یہ جشن ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے، جب ایران نے حال ہی میں بین الاقوامی طاقتوں، جن میں امریکا سب سے اہم ہے، کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا ہے اور اس کے بدلے میں اس پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں بھی اٹھا لی گئی ہیں۔

انقلاب ایران کے جشن میں آج نہ صرف دارالحکومت تہران بلکہ ملک بھر میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جبکہ سرکاری ٹیلی وژن پر ان کی لائیو کوریج بھی جاری ہے۔ تہران میں شرکاء نے وہ منظر کشی بھی پیش کی، جس میں پاسداران انقلاب نے جنوری میں امریکی بحریہ کے اہلکاروں کو گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے علاوہ تہران کے مرکز میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلاسٹک میزائل کی نمائش بھی کی گئی ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں ایران نے ایک ایسے نئے میزائل کا ’کامیاب تجربہ‘ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جو سترہ سو کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چند روز پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ان ریلیوں میں بھرپور شرکت کریں تاکہ ایرانی اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

فروری 1979ء میں ایران کے اسلامی رہنما سید روح اللہ مصطفوی خمینی اپنی جلا وطنی ختم کرتے ہوئے فرانس سے واپس اپنے وطن ایران پہنچے تھے۔ انہوں نے ایک عوامی انقلاب کے ساتھ اس وقت کے شاہ رضا پہلوی کا تختہ الٹ دیا تھا۔ امریکا نواز رضا پہلوی کو اقتدار سے الگ کرنے کے بعد خمینی نے ملک کو اسلامی جموریہ بنا دیا تھا۔