1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’انفومائیگرنٹس‘، وہ معلومات جو تارکین وطن کو ہونا چاہیے

یورپ پہنچنے کے غیر قانونی راستے کتنے خطرناک ہیں اور یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کا طریقہ کار کیا ہے، ان معلومات سے متعلق ’انفومائیگرنٹس‘ کے نام سے تین زبانوں میں یہ پروجیکٹ جاری ہے۔

ایسے افراد جو اپنے آبائی ممالک میں زندگی کو لاحق خطرات کا سامنا کر رہے ہیں اور یورپ میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرانا چاہتے ہیں، ان کے لیے تمام ضروری معلومات اس پروجیکٹ کے ذریعے مہیا کی جا رہی ہے۔

انفومائیگرنٹس کے نام سے تین زبانوں (عربی، انگریزی، فرانسیسی) میں بنائی گئی اس ویب سائٹ کے ذریعے مہاجرت کے حوالے سے تازہ ترین خبریں، مہاجرین کے تجربات پر مبنی رپورٹیں اور رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے ضروری معلومات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاہدوں مثلاﹰ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ڈیل کی معلومات بھی موجود ہیں۔

Griechenland Flüchtlingslager Moria auf Lesbos (Getty Images/AFP/L. Gouliamaki)

انسانوں کے اسمگلر تارکین وطن کو جھوٹی کہانیاں سنا کر ایک خطرناک سفر پر مجبور کر دیتے ہیں

یہ آن لائن پروجیکٹ ڈوئچے ویلے، فرانس میڈیاس مونڈ اور اطالوی خبر رساں ادارے ANSA نے مشترکہ طور پر شروع کیا ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ساتھ ساتھ افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو ضروری معلومات فراہم کرنا ہے۔

تین ادارتی دفاتر، ایک ٹیم

ایک مشترکہ بیان میں ڈوئچے ویلے کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لِمبرگ نے فرانس میڈیاس مونڈ کی سربراہ ماری کرسٹین ساراگوسے اور ANSA  کے گیوسیپے کیربون کا کہنا تھا، ’’ایک ایسے موقع پر جب بلقان کے خطے اور بحیرہء روم کے جزائر میں ہزاروں تارکین وطن پھنسے ہوئے ہیں، ہم نے اپنی مہارتوں کو جمع کرتے ہوئے قابل اعتماد معلومات ان افراد تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ یورپی کمشین اس سلسلے میں ہماری مدد کر رہا ہے۔‘‘

تارکین وطن کے لیے پریشانیوں کا بڑا باعث انسانوں کے اسمگلروں کی جانب سے سہانے خواب دکھاتی وہ من گھڑت کہانیاں ہیں، جنہیں اس پروجیکٹ کے ذریعے بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ ڈوئچے ویلے کی پروگرام ڈائریکٹر گیرڈا موئر نے کہا کہ تارکین وطن خود بھی اپنی ویڈیوز اور تصاویر اس آن لائن پروجیکٹ ’انفومائیگرنٹس‘ تک پہنچائیں۔ تاکہ انسانوں کے اسمگلروں کی جانب سے گھڑی گئی جھوٹی کہانیوں کے بجائے لوگوں کو حقیقی صورت حال جاننے میں مدد مل سکے۔