انضمام کا نيا ڈھنگ : مہاجرين اور جرمن شہريوں کی ملاقات | مہاجرین کا بحران | DW | 15.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

انضمام کا نيا ڈھنگ : مہاجرين اور جرمن شہريوں کی ملاقات

يکم مئی سے ايک ايسی نئی ويب سائٹ شروع ہو چکی ہے جو پناہ گزينوں کو جرمن شہريوں سے ملاقات کے ذريعے انضمام کا موقع فراہم کرتی ہے۔ يہ مکمل طور پر بلا معاوضہ سروس ہے اور اس کا مقصد سماجی انضمام بڑھانا ہے۔

يورپ کو درپيش مہاجرين کا بحران جن دنوں اپنےعروج پر تھا اور يوميہ بنيادوں پر سينکڑوں پناہ گزين جرمنی پہنچ رہے رتھے، تو اس وقت جرمن دارالحکومت برلن ميں رہنے والے کنسلٹنٹ لاسے لينڈٹ کے ذہن ميں ايک سوال آيا۔ ’اسارٹ اپ کنسلٹنٹ‘ يعنی کسی نئے کاروبار شروع کرنے والوں کو مشاورت فراہم کرنے والے لينڈٹ نے خود سے سوال کيا کہ يہاں اتنے پناہ گزين آ رہے ہيں ليکن وہ کسی سے بھی نہيں مل سکے، کيوں؟ چھتيس سالہ لينڈٹ کے بقول ان دنوں ذرائع ابلاغ پر بس يہی خبريں تھيں ليکن اس وقت تک انہوں نے کسی پناہ گزين کو ديکھا تک نہيں تھا۔ وہ يہ جاننا چاہتے تھے کہ يہ خبريں اور بحران حقيقی بھی ہيں يا نہيں۔

لاسے لينڈٹ اس تجربے سے گزرنے والے واحد جرمن شہری نہيں۔ بہت سے جرمنوں نے صرف پناہ گزينوں سے ملنے کی خاطر امدادی تنظيموں سے رابطہ کيا اور رضاکارانہ بنيادوں پر کچھ عرصے تک کام بھی کيا۔ لينڈٹ چونکہ خود بھی کاروباری ذہنيت کے مالک تھے، وہ ذرا ايک قدم آگے ہی نکل گئے اور ان کی کاوشوں کا نتيجہ ايک ايسی ويب سائٹ کی صورت ميں نکلا، جس کی بدولت جرمن شہری اور پناہ گزين مل سکتے ہيں۔ اس ويب سائٹ کا مقصد کوئی رومانوی ملاقات نہيں بلکہ محض سماجی رابطہ کاری ہے۔

جرمن شہر بون ميں پناہ گزين جرمن زبان سيکھنے کے کورس کے دوران

جرمن شہر بون ميں پناہ گزين جرمن زبان سيکھنے کے کورس کے دوران

برلن ميں کمپيوٹر کوڈنگ کی ايک کلاس ميں لينڈٹ کی ملاقات پچيس سالہ شامی مہاجر خالد الاسود سے ہوئی۔ لينٹٹ نے الاسود کے ساتھ مل کر ’ليٹس انٹگريٹ‘ يا ’چلو انضمام کريں‘ نامی ايک نئے منصوبے کو پايہ تکميل تک پہنچايا، جس کا مقصد ايک ويب سائٹ کی مدد سے مہاجرين اور مقامی افراد کے مابين ملاقات کرانا يا انضمام کو فروغ دينا ہے۔ يہ ويب سائٹ استعمال کرنے والوں کو ملاقات کا وقت اور جگہ طے کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ اسے قائم کرنے کے پيچھے بنيادی خيال يہی تھا کہ ملاقات کے ليے لمبی چوڑی کاغذی کارروائی سے بچا جا سکے اور متعلقہ افراد چائے يا کافی پر مل کر ايک دوسرے سے بات چيت کر سکيں۔

اس بارے ميں بات کرتے ہوئے لاسے لينڈٹ کا کہنا تھا، ’’جرمنی ميں انضمام کو بڑے ’ٹيکنوکريٹک‘ انداز ميں ليا جاتا ہے۔ آپ زبان سيکھيں، آپ ملازمت کريں اور پھر آپ کے انضمام کا عمل مکمل ہو گا۔ ليکن حقيقت يہ ہے کہ انضمام در اصل سماجی سطح پر تعلق کو کہا جاتا ہے۔ يہ ايک ايسی چيز ہے، جسے زبان سيکھنے کے کورس کے ليے چھ ماہ تک انتظار کرنے سے قبل بھی کيا جا سکتا ہے۔‘‘

’ليٹس انٹگريٹ‘ (www.letsintegrate.de) نامی يہ ويب سائٹ يکم مئی سے شروع ہو چکی ہے اور اب تک کوئی ايک درجن ملاقاتيں ہی ہو پائی ہيں۔ ابھی تک زيادہ تر جرمن شہريوں نے ہی ملاقات کی درخواستيں دی ہيں اور اسی ليے منتظمين اب مہاجر کيمپوں ميں اس کے ليے اشتہاری مہم چلا رہے ہيں۔ تاحال يہ سروسز بالکل بلا معاوضہ ہيں ليکن صرف برلن ميں ہی دستياب ہيں۔ عنقريب اس سلسلے کو ديگر جرمن شہروں ميں بھی متعارف کروایا جائے گا۔