1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انسداد دہشت گردی کے ليے نئی امريکی حکمت عملی کيا ہو گی؟

انتہا پسندی کے خاتمے اور انسداد دہشت گردی کے ليے امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ايک نئی حکمت عملی تشکيل دے رہے ہيں، جس ميں اتحادی ممالک کا زيادہ فعال کردار درکار ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے پاس موجود ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ حکمت عملی کے مسودے کے مطابق اسلامی انتہا پسندی کا جڑ سے اور مکمل خاتمہ ممکن نہيں۔ تاہم اس سلسلے ميں مطلوبہ نتائج تک پہنچنے کے ليے اتحادی ممالک کے زيادہ فعال کردار کی ضرورت ہے۔ گيارہ صفحات پر مشتمل اس دستاويز ميں يہ بھی کہا گيا ہے کہ امريکا کو کافی مہنگی اور ايسی عسکری کارروائيوں کا حصہ نہيں بننا چاہيے، جن کے ختم ہونے کے امکانات واضح نہ ہوں۔

وائٹ ہاؤس نيشنل سکيورٹی کونسل کے ترجمان مائيکل اينٹن کے مطابق واشنگٹن انتظاميہ کی جانب سے سلامتی سے متعلق معاملات اور اب تک کی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ ليا جا رہا ہے۔ اب امريکی پاليسی ميں انسداد دہشت گردی کو بھی شامل کيا جائے گا۔ مائيکل اينٹن کے بقول يہ اس ليے بھی ضروری ہے کيونکہ 2011ء کے بعد سے ايسی کوئی جامع پاليسی منظر عام پر نہيں آئی ہے۔

روئٹرز کے ہاتھ لگنے والے مسودے ميں لکھا ہے کہ عالمی سطح پر جہاديوں کے خلاف کارروائياں بڑھانے کی ضرورت ہے جبکہ اس دوران امريکا کے جانی و مالی نقصان کو کم کرنا بھی لازمی ہے۔ ’’ہم انسداد دہشت گردی کے اہداف کے حصول کے ليے کافی مہنگے اور وسيع تر آپريشنز کی بجائے ايسے مقامی اتحادی ڈھونڈيں گے، جن کے ساتھ مل کر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔‘‘

دريں اثناء اس دستاويز ميں يہ بات بھی واضح کر دی گئی ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہيں۔

يہ امر اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی يہ بات واضح کر دی تھی کہ اسلامی طرز کی انتہا پسندی کو وہ ايک بڑا مسئلہ قرار ديتے ہيں۔ انسداد دہشت گردی کے ليے ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ حکمت عملی کے مسودے ميں اسلام پسند گروہوں سے لاحق خطرات کو واضح انداز ميں بيان کيا گيا ہے۔

اس دستاويز پر ابھی کام جاری ہے اور اسے امکاناً آئندہ چند ماہ ميں جاری کيا جائے گا۔