1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں پاک چین تعاون

پاکستان اور چین کے درمیان مثالی دوستی خیال کی جاتی ہے لیکن سنکیانگ میں مسلم عسکریت پسندی کے حوالے سے چینی میڈیا میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متحرک عسکریت پسندوں کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

default

حنا ربانی کھر: فائل فوٹو

پاکستان کی خاتون وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے دور روزہ دورہ چین کے بعد کہا کہ عالمی برداری پاکستان کی صورتحال کو سمجھے، جہاں دہشت گردی کے نتیجے میں زیادہ تر نقصان پاکستانی حکومت اور عوام کو ہی ہو رہا ہے۔

بدھ کے روز بیجنگ میں پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے چینی ہم منصب Yang Jiechiسے ملاقات کے دوران واضح طور پر کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں جاری تعاون کو مسلسل استحکام دینے کے عہد پر عمل پیرا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان عسکریت پسندوں کے ساتھ نمٹنے کے معاملے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حنا ربانی کھر نے کاشغر حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے سے متعلق رپورٹوں کو رد کردیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیجنگ میں نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔

اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کاشغر حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے شبہ پر جو رپورٹس سامنے آئی ہیں وہ چینی حکومت کی جانب سے نہیں ہیں۔ نیوز کانفرنس میں خاتون وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اگر مشرقی ترکمانستان اسلامک موومنٹ (ETIM) کا مرکز پاکستان میں قائم ہے تو ان کی حکومت اس سے قطعاً آگاہ نہیں ہے۔ کھر کے مطابق سکیورٹی معاملات کی وجہ سے پاکستان اور چین کے تعلقات میں مزید استحکام پیدا ہوا ہے۔

China Pakistan Wen Jiabao Yousuf Raza Gilani

چینی رہنما وین جیا باؤ اپنے سابقہ پاکستانی دورے پر

چین کی وزارت خارجہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے تناظر میں پاکستان کو ایک مضبوط پارٹنر قرار دیتے ہوئے ان تمام خدشات کو مسترد کر دیا ہے کہ کاشغر حملے کے باعث ان تعلقات میں سرد مہری پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ سنکیانگ صوبے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ کاشغر میں چاقو زنی کے واقع میں ملوث دہشت گردوں نے تربیت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حاصل کرنے کے بعد ہی اس واردات میں حصہ لیا تھا۔

پاکستانی وزیر خارجہ کے دورہء چین کا ایک اہم مقصد پاکستانی صدر زرداری کے اگلے ہفتے کے دوران شروع ہونے والے سنکیانگ کے دورے کے لیے چینی حکام کے ساتھ بات چیت کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینا بھی تھا۔ پاکستانی صدر سنکیانگ کے صدر مقام ارمچی کا دورہ کریں گے اور وہاں وہ چین یوریشیا تجارتی میلے میں شرکت کریں گے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس